باکو ڈیکلیریشن منظور ہو گیا، ترکی اور پاکستان کا تعاون ہمارے ذہن و دل میں نقش رہے گا: غفوراووا

ہم نے حق و انصاف کے لئے قارا باغ میں جو جنگ لڑی اس میں ترکی اور پاکستان کا تعاون تاابد ہمارے ذہن و دل میں نقش رہے گا: شاہدہ غفور اووا

1681674
باکو ڈیکلیریشن منظور ہو گیا، ترکی اور پاکستان کا تعاون ہمارے ذہن و دل میں نقش رہے گا: غفوراووا

ترکی، آذربائیجان اور پاکستان  کے اسمبلی اسپیکروں نے باکو ڈیکلیریشن منظور کر لیا ہے۔

آذربائیجان۔پاکستان۔ترکی سہ پارلیمانی سربراہان کا پہلا اجلاس آذربائیجان اسمبلی اسپیکر شاہدہ غفور اووا کی میزبانی میں اور ترکی کے اسمبلی اسپیکر مصطفیٰ شین توپ اور پاکستان کے اسمبلی اسپیکر اسد قیصر کی شرکت سے دارالحکومت باکو میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ڈیکلیریشن کی منظوری کے بعد شین توپ، قیصر اور غفوراووا  نے آذربائیجان کی قومی اسمبلی سے خطاب کیا۔

ترکی قومی اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ شین توپ نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ترکی، آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تعلقات " دوستی و بھائی چارے " کی بنیاد پر استوار ہیں۔ اس وقت ہم ان تینوں ممالک کے اسمبلی سربراہان کی حیثیت سے باکو میں  ایک نئے اقدام  کے آغاز کی خوشی سے گزر رہے ہیں۔

شین توپ نے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ مشترکہ کوششوں کے ساتھ یہ اقدام زیادہ تقویت حاصل کرکے ایسے ٹھوس منصوبوں  کی تکمیل کا سبب بنے گا کہ جن سے تینوں ممالک کے درمیان بین الپارلیمانی تعاون زیادہ فروغ پائے گا۔  

انہوں نے کہا ہے کہ بحیثیت فتحیاب حکومت کے آذربائیجان کی آرمینیا سے ایک جامع امن سمجھوتے  کی اپیل ہمارے نزدیک ایک " باوقار اقدام " ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ آرمینیا کی طرف سے اس اپیل کا پُر خلوص اور مفاہمانہ جواب درست ترین اقدام ہو گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جنگ میں شکست کے باوجود 20 جون کے انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد پاشینیان دستخط کردہ دستاویزات کے اطلاق میں تیزی لائیں گے۔ میں اس بات کو دوبارہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر خلوص کے ساتھ یہ قدم اٹھایا گیا تو بحیثیت ترکی ہم بھی اس کا مفاہمانہ جواب دیں گے۔ 

پاکستان قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے بھی 44 دن میں حاصل کردہ فتح قاراباغ پر آذری عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس فتح پر پاکستانی عوام کو بھی دلی مسرت ہوئی ہے۔

قیصر نے پاکستان کے لئے  ترکی اور آذربائیجان کی پالیسی پر دونوں ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ باکو ڈیکلیریشن کے ساتھ جو تجاویز پیش کی گئی ہیں ہم ان کے اطلاق کو بھی دیکھنے کے متمنی ہیں۔

آذربائیجان قومی اسمبلی کی اسپیکر غفور اووا نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ترکی، آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان مشترکہ اعتماد کی بنیاد پر استوار دو طرفہ تعلقات ایک طویل ماضی کے حامل ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے حق و انصاف کے لئے قارا باغ میں جو جنگ لڑی اس میں ترکی اور پاکستان کا تعاون تاابد ہمارے ذہن و دل میں نقش رہے گا۔

غفوراووا نے کہا ہے کہ قریبی بین الپارلیمانی تعلقات باہمی عوامی تعلقات کے فروغ میں بھی سود مند ہوں گے۔ علاوہ ازیں سہ پارلیمانی سربراہان اجلاس، بین الاقوام پلیٹ فورم پر مشترکہ مفادات  کے ساتھ تعاون کے حوالے سے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

اگلے اجلاس کے مارچ 2022 میں پاکستان میں انعقاد پر اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا ہے۔

 

 



متعللقہ خبریں