20 جولائی مظالم کا خاتمہ کرنے والا اورجزیرہ قبرص میں امن قائم ہونے والا یومِ آزادی ہے، صدر ایردوان

ہم حق بجانب ہیں اور حق بجانب ہونے کے ناطے ہم آخری دم تک اپنے حقوق کا دفاع کرتے رہیں گے

1677786
20 جولائی مظالم کا خاتمہ کرنے والا اورجزیرہ قبرص میں امن قائم ہونے والا یومِ آزادی ہے، صدر ایردوان
tatar.jpeg

صدر  رجب طیب ایردوان  کا کہنا ہے کہ ’’20 جولائی مظالم کا خاتمہ کرنے والا اورجزیرہ قبرص میں امن قائم ہونے والا یومِ آزادی ہے۔‘‘

صدر ایردوان نے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ میں امن و آزادی کے تہوار کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی۔

جناب ایردوان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ’’ قبرصی یونانی ،  قبرصی ترکوں کو اقلیت کی نگاہ سے دیکھنے، مساوات کی بنیاد پر حل کو مسترد کرنے  کی غفلت  سے کسی بھی طریقے سے بیدار نہیں ہوئے، یونانی فریق  حقائق سے  دور، ماکسی مالسٹ، غیر مخلص اور شرارتی مؤقف پر بضد ہے۔ ‘‘

ترک صدر نے یورپی یونین پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے   کہا کہ ’’یورپی یونین    نے مالی اور اداراتی  معاملات میں شمالی قبرص سے تعاون کرنا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، ان کی زندگیاں جھوٹ کے پلندوں پر قائم ہیں۔‘‘

انہوں نے قبرصی یونانی انتظامیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ مشاہدہ کر سکے رہے ہیں کہ ان کے اندر تا حال 1974 کے قتل ِ عام کی خواہش رکھنے والے عناصر  موجود  ہیں، ان کی نیتیں خراب ہیں۔

مسئلہ قبرص پر  بات کرتے ہوئے ترک صدر نے بتایا کہ’’ہم حق بجانب ہیں اور حق بجانب ہونے کے ناطے ہم آخری دم تک اپنے حقوق کا دفاع کرتے رہیں گے،  سالہا  سال  سے تبدیل نہ ہونے والے اور  قلیل عرصے کے اندر تبدیلی کی توقع   نہ ہونے والے گستاخانہ مؤقف کی اب کوئی وقعت  باقی نہیں بچی، اب کسی کو ہم سے واپسی اختیار کرنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  اب کسی کو  قبرصی ترکوں سے مساوی حیثیت اور حاکمیت  سے باز آنے ، قبرصی یونانیوں کی سرپرستی میں اقلیت کے طور پر زندگی بسر کرنے   کی توقع نہ کرے، 47 برس کجا، چاہے 147، 247 سال بھی گزر جائیں  قبرصی ترک عوام اپنی آزادی اور خود مختاری  کے حق سے  پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے قبرصی یونانی  فریق کے علاقے میں قدرتی وسائل کی تلاش کے کام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ  میں اس چیز کو عالمی برادری کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں کہ کون   یکطرفہ  کاروائیاں کر رہا ہے اور خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔

شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے صدر ایرسن تاتار نے بھی اس موقع پر کہا کہ ’جزیرے  کےارد گرد کے سمندری  علاقے  میں قدرتی وسائل پر    مساوی حقوق کے مالک  کی حیثیت سے ترکی کے ہمراہ اپنا حق جتاتے رہیں گے۔ ‘

انہوں نے بتایا کہ امن کاروائی   کے باعث ترکی  کے ساتھ زبان  درازی کرنے والے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے پر عمل پیرا ہیں۔ ماراش کے غیر منقولہ   کو ملکیت کے حقوق کے مطابق  تقسیم کیا جائیگا۔



متعللقہ خبریں