15 جولائی ناکام بغاوت کے پانچ سال بعد صدر ایردوان کا پیغام

ہماری قوم کا ہر فرد نسل در نسل کے اس  بے نظیر غدارانہ واقعے  کو جب بھی یاد کریں گے اس سے   ہماری آزادی اور ہمارے مستقبل کو مزید مضبوط بنانے اور ملک میں استحاکم قائم کرنے کا  وسیلہ بنے گا

1677316
15 جولائی ناکام بغاوت کے پانچ سال بعد صدر ایردوان کا پیغام

15 جولائی کو ہونے والی  ناکام بغاوت کی کوشش کی پانچویں سال کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ، صدر ایردوان نے کہا کہ ناکام   بغاوت کی  یہ کوشش  جو جمعہ ، 15 جولائی ، 2016 کو شام کو شروع ہوئی اور اگلے دن ترک قوم  کے پاوں تلے روندتے ہوئے ہماری تاریخ  میں ایک  عبرت کے واقعے کی حیثیت سے  جگہ پاچکی ہے۔    انہوں نے کہا کہ  ہماری قوم کا ہر فرد نسل در نسل کے اس  بے نظیر غدارانہ واقعے  کو جب بھی یاد کریں گے اس سے   ہماری آزادی اور ہمارے مستقبل کو مزید مضبوط بنانے اور ملک میں استحاکم قائم کرنے کا  وسیلہ بنے گا۔

صدر رجب طیب ایردوان نے ان خیالات کا اظہار   15 جولائی کو جمہوریت اور یوم  قومی اتحاد کے پروگرام کے دائرہ کار  میں صدارتی کمپلیکس سے قوم کے نام خطاب میں کیا۔

عوام سے براہ راست خطاب کو  کے دوران صدر ایردوان نے کہا کہ عزیز  قوم ، میں آپ کو اپنے دلی جذبات اور پیار سے سلام پیش کرتا ہوں ۔ آج ہم سب سے بھیانک حملے اور ہماری ریاست اور قوم کی زندگی کے سب سے پُرجوش مزاحمت میں سے ایک کی پانچویں برسی ہے۔ میں اپنی تقریر کا آغاز اس رات جنگ   بدر کے شیروں کی طرح   ببڑے دلیرانہ طریقے سے   با غیچہ  گل میں اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے  251 شہدا پر کی اللہ سے مغفرت  کی دعا کرتے ہوئے شروع کرنا چاہتا ہوں ۔ ہمارے  ان شہداء ، جن میں سے ہر ایک کی کہانی  الگ ا لگ  ہےنے ان لوگوں کو اپنی بہادری  سے اور سر پر کفن پہنتے ہوئے ایسا سبق سکھایا ہے  جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔    پیغمبر  کے درجے کو حاصل کرنے کے بعداللہ تعالی کے حضور  سب سے اہم  درجہ شہید  کی شہادت کا درجہ جو ہمارے شہید حاصل کرچکے ہیں ۔ اب یہ ہمارے پر فرض ہے کہ ہم اپنے ان شہدا کی امانتوں  کا تحفظ کریں جو وہ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہیں۔

لیے  ان تمام شہدا کی امانت  یہ ہے کہ  ہم ، ان امانتوں کی حفاظت کرکے جو انہوں نے پیچھے رہ گئے ہیں۔

’’ہمارے وطن و ملت کے ساتھ  کی گئی اس غداری کو ہر گز فراموش نہیں کریں گے‘‘

ہمارے مرد و خواتین ، نوجوان و بزرگوں،   معلم و شاگردوں،   دکانداروں اور محنت کشوں، سرکاری ملازمین و  کاروباری  شخصیات، حتی  ہر عمر ، پیشے اور طبقے کے انسانوں   کی  بدولت اس  بے غیرت  بغاوت کے سامنے ڈھال بنتے ہوئے ،  گلی کوچوں میں  نکلتے ہوئے ، باغیوں کی راہوں کو بند  کرتے ہوئے  ناقابل فراموش  جہدوجہد  کے  دوران غازی کا اعزاز حاصل کرنے والے تمام تر ترک  بہن بھائیوں  کا دل کی اتھاہ گہرائیوں  سے مشکور و ممنون ہوں۔

اللہ تعالی کی ذات پر یقین رکھنے والی ہماری قوم کا عشق ِ آزادی ،   آزادی کے علم ہمارے پرچم کا لہرانا،  ہمارے  وطن کے گوشے گوشے میں ابدی طور پر  بلند ہونے والی اذان ہماری گواہ ہے کہ ہم ملک و قوم کے ساتھ  ہونے والی اس غداری کو ہر گز نہیں بھلائیں گے۔  اس  بے غیرتی  کا حساب ہم نے  پکڑے گئے اور ترین کردہ تمام تر غداروں سے لیا ہے اور آئندہ بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ اگلے جہان میں بھی ان  شیطانوں  کا گریبان پکڑتے ہوئے  روز ِ محشر   کو بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔

میری پیاری عوام نے، 15 جولائی2016 جمعہ کی شام شروع ہوتے ہوئے اگلے دن تک  اپنے  پاؤں تلے روندھتے ہوئے  قلع  قمع کیے  جانے والے  اس بغاوت اقدام  کو ہماری تاریخ میں ایک عبرت ناک واقع کے طور پر رقم  کیا ہے۔ نسل در نسل ہماری  ملت کا ہر فرد اس بے نظیر  بغاوت کو  یاد کرتے ہوئے  اپنی آزادی و درخشاں  مستقبل  کا دامن کہیں زیادہ  مضبوطی سے تھامے گا۔  ہمارے ملک کو جمہوریت کی تاریخ بھر کے دوران بار ہا بغاوتوں، بغاوت اقدام   اور دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تا ہم  اس تاریک شب کو  رونما ہونے والے  واقعات نے  ہمیں، اپنی  حکومت، اپنے عوام، اپنے  انسانو ں   پر اسلحہ   کا استعمال  کرنے والے والوں، معصوم  انسانوں  کا خون بہانے والوں اور  ان غداروں کے کس طرح دنیا کے  خوفناک ترین درندے   بن سکنے  کا مظاہرہ کیا تھا۔

در اصل  ہماری ملت کو قوم  کا درجہ دینے والے  عناصر میں سے ایک ہمارے ماضی میں  پیش آنے والے اس قسم کے   واقعات کے سامنے  خون پسینہ ایک کرتے ہوئے حاصل کردہ فتوحات  ہیں ۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہماراہزار سالہ  یہ وطن کانٹو ں سے پاک  پھولوں کا باغیچہ نہیں،   تقریباً ہمارا ہر روز  ملکی بقا کی جدوجہد  میں  گزرا ہے۔  ہم دنیا کے ہر ملک و معاشرے   کے لیے جاذبِ نظر اس محل و قوع   کی ایک ہزار برسوں سے وطن   کی حیثیت  کو برقرار رکھنے کی  جدوجہد  میں قربانیاں دیتے چلے آئے ہیں۔ ہمارے گرد و نواح میں گزشتہ  ایک دو صدیوں   میں رونما ہونے والے واقعات کا  جائزہ لینے سے ان قربانیوں کا جواب  اتحاد و یکجہتی ، بھائی چارگی،  اپنے وطن اور مستقبل کو نجات دلانے کے طور پر  حاصل کیا جانا ایک حقیقت ہے۔

ہماری عظیم تہذیب اور تاریخی ورثے کی حفاظت  سے بے خبر ہیں:

 گزشتہ آٹھ سال  کے دوران مختلف مناظر کی آڑ میں کئے گئے حملے اس بات کاثبوت ہے کہ وطن عزیز کی پاسبانی  کی جدو جہد جاری ہے۔ پی کےکے ہو  ،داعش ہو یا فیتو تمام تنظیموں  کا مقصد ترکی  کو  سر جھکانے اور قوم کو  غلام بنانے اور ہماری سر زمین کو لوٹ مار کا بازار بنانا ہے۔ ترکی کے خلاف عالمی سطح پر روا دوہرا معیار انہی مقاصد کی ایک کڑی ہے۔ہزاروں بلکہ لاکھوں کلومیٹر دور انسداد دہشتگردی کے بہانے سے ہمارے اس جغرافیئے میں خون کی ہولی کھیلنے اور آنسووں کے دریا بہانے والی،کروڑوں انسانوں کا مستقبل تاریک بنانے والے اس وقت بوکھلا چکے ہیں کہ ترکی کیوں کر اس گھناونے کھیل میں ان کا ساتھی نہیں بن  رہا۔اپنی سلامتی و آسائش کے لیے ہمارے ملک کو بطور ڈھال استعمال کرنے کی خوش فہمی میں رہنے والے درحقیقت، ہماری عظیم تہذیب اور تاریخی ورثے  کی پاسبانی سے لا علم ہیں،ہم نے خطے میں  امن و استحکام اور سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں اور قربانیوں کے پس پردہ ایک قوی اور مضبوط ترکی   بدرجہ اتم موجود ہے اور اپنے قدم  ترقی کی جانب بڑھا رہا ہے۔

 گیزی پارک کے واقعات سے  معاشرے میں نفاق اور دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف دراصل ہماری بنیادوں میں سرایت کردہ قومی اتحاد و یک جہتی کا خمیر بھول چکے ہیں۔بغاوت کی کوشش سے قومی ارادے کے خاتمے اور ریاستی اداروں پر قابض ہونے کے خواہاں  ہماری ہزار ہا سالہ روایات  کی مضبوط زنجیر سے بھی بے خبر ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کے سہارے وطن عزیز کے لیے خطرہ بننے والے ہماری اخوت کے جذبے سے بھی بہرہ ور نہیں ہیں۔

  ایک مضبوط اور ترقی یافتہ  ترکی کی تعمیر میں رکاوٹ نہیں بنیں گے:

 مشرق  سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہر سمت میں پھیلے ترکی کے دیرینہ تاریخی و ثقافتی تعلقات  کے حامل جغرافیئے سے اس کا رابطہ کاٹنے کے درپے عناصر مظلوم کی آواز بننے اور ان کی درد کشائی کرنے میں پیش پیش ترکی سے نابلد ہیں۔  یہ لوگ اتنا بھی نہیں جانتے کہ پندرہ جولائی کی رات   ہماری  قوم نے اپنے نہتے ہاتھوں سے دنیا  کے جدید ترین طیاروں کوپیش قدمی سے روکا حتی ترکی  کے دیگر مسائل میں  اختیار کردہ موقف بھی ان کی عقل سے دور ہے۔

 

حقیقت  یہ ہے کہ ہم اپنے پورے جغرافیے، اپنے تمام دوستوں اور پوری انسانیت کے لئے بھی وہی چاہتے ہیں جو ہم خود اپنے لئے چاہتے ہیں ۔اور چونکہ ایسا ہم کسی بد نیّتی کو ڈھانپنے کے لئے نہیں بلکہ پورے خلوصِ نیت سے کرتے ہیں اس لئے جہاں جہاں بھی ہم جاتے ہیں وہاں وہاں ہمیں پذیرائی ملتی ہے۔ کل ہم نے شام میں ، لیبیا میں قاراباغ میں  یہی کیا اور آنے والے دنوں میں ہم انشاء اللہ  افغانستان اور دیگر جگہوں پربھی  اسی خلوص اور حقانیت کے ساتھ اپنے بھائیوں کا ساتھ دیں گے۔

15جولائی  کا دن صرف اپنے ملک میں اپنے استقلال و استقبال کی حفاظت کا مفہوم نہیں رکھتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک وسیع ویژن کی بھی علامت ہے۔ یقیناً زندگی کے دیگر تمام  پہلووں کی طرح اس  حقیقت کا ادراک بھی صرف وہی کر سکتے ہیں کہ جن کی  آنکھیں دیکھنے کی خواہش مند، کان سننے کے اہل ، زبانیں  بولنے کی آرزو مند  اور   ذہن سمجھنے کے قابل ہوں۔ جن کے دل  محبت  اور امید سے لبریز ہوں۔

خدا کا شکر ہے کہ ہماری ملت ہمیں سمجھتی ہے، ہمیں راستہ دکھاتی ہے اور  ہمارے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کو اسیر بنانے کے خواہش مند حملہ آوروں کو جیسے ہم نے ایک صدی قبل کہا تھا اسی طرح آج بھی کہتے ہیں کہ "ترکی ناقابل تسخیر "ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی ملت کے خلاف مکّار نیّتوں والے حریصوں سے کھُلے الفاظ میں کہہ رہیں کہ تم اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکو گے۔ یہ حلقے  نہ ماضی میں کامیاب ہو سکے نہ آج کامیاب ہو سکے اور نہ ہی انشاء اللہ مستقبل میں کامیاب ہو سکیں  گے۔ یہ، مضبوط، طاقتور اور بڑے ترکی کی تعمیر میں رکاوٹ نہیں بن سکیں گے۔

"ہماری ہمسفر ہماری ملت ہے"

ہمیں کوئی پرواہ نہیں کہ کون کس کا ساتھ دے رہا ہے۔ ہماری ہمسفر ہماری ملت ہے۔ ہمارے ہمسفر ملازگیرت سے فتحِ استنبول تک، چناق قلعے سے جنگ استقلال تک، قبرص کی پیش قدمی سے لے کر15 جولائی  تک اس وطن کی خاطر جان دینے والے شہداء ہیں۔ ہمارے ہمسفر جہدِ مسلسل کے عزم سے سرشار ہماری غازی ہیں۔ ہماری ہمسفر وہ دعائیں ہیں جو ہماری سفید ریش باپ اور اُجلی رداوں والیں مائیں پُرنم آنکھوں کے ساتھ ہمارے لئے کرتی ہیں۔ ہماری ہم سفر دنیا بھر کی وہ مظلوم نگاہیں اور دل ہیں کہ جن کی امیدیں ہم سے لگی  ہیں   ۔ ہمارے ہم سفر ہمارے جوان اور بچے ہیں جن کے دل ایک خوش کن ہیجان و مسرت سے  اور نئے نئے منصوبوں سے لبریز ہیں ۔ جنہوں نے اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے لئے 2053کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے محض لفّاظی ہے۔

جیسے ارشمیدس کہتا ہے کہ مجھے ایک لیور دیں میں اس دنیا کو اس کی جگہ سے ہٹا دوں، ہم بھی کہتے ہیں  کہ اس عظیم ملت کے ساتھ ہم اس دنیا کو بھی  اس کی جگہ سے ہٹا دیں گے، اس جہان پر بھی حکمرانی کریں گے اور اس عالم کو بھی اپنی آواز سنا دیں گے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ دوبارہ15 جولائی جیسی اہانتوں کے ساتھ ہمارا امتحان نہ لے، اللہ ہمارے ملک و ملت کی حفاظت فرمائے۔ رب العالمین ہمارے ہر کام میں آسانیاں عطا فرمائے اور ہماری ہر کوشش کو ظفر یاب کرے۔

انہی الفاظ کے ساتھ میں اپنی بات کو ختم کرتا اور منگل کے روز متوقع عید الضحیٰ  کی ابھی سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ اس مبارک دن کی برکت سے ہماری ملت کو تمام مسلمانوں اور پوری انسانیت کو  فلاح و آسودگی عطا فرمائے۔ آپ سب کو قلبی محبت و احترام  پیش کرتا ہوں ۔ اللہ حافظ



متعللقہ خبریں