وقت آگیا ہے کہ نیٹو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائے: صدارتی مشیراطلاعات

صدارتی ترجمان برائے اطلاعات فخر الدین آلتون نے کہا ہے کہ وقت آن چکا ہے کہ کہ موجودہ علاقائی صورت حال کے پیش نظر نیٹو اپنے اسٹریٹیجک نظریات میں تبدیلی لائے

1657350
وقت آگیا ہے کہ نیٹو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائے: صدارتی مشیراطلاعات

صدارتی ترجمان برائے اطلاعات فخر الدین آلتون نے کہا ہے کہ وقت آن چکا ہے کہ کہ موجودہ علاقائی صورت حال کے پیش نظر نیٹو اپنے اسٹریٹیجک نظریات میں تبدیلی لائے۔

 مشیر نے الجزیرہ کے لیے اپنے تحریر کردہ مقالے میں  کہا کہ ترکی سن 1952 میں ترکی کا رکن بنا تھا جو کہ اِس وقت تنظیم کا اہم اتحادی ملک ہے، ترکی نے مشترکہ سلامتی کے معاملات میں ہمیشہ تنظیم کا ساتھ دیا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ ترکی کی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے نیٹو کا کردار ناگزیر ہے،حالیہ عشرے میں علاقائی سلامتی میں نمایاں تبدیلیاں ہونےکے بعد نیٹو کو  بھی اپنےاسٹریٹیجک نظریات  پر نظر ثانی کی  ضرورت ہے۔

مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ  انتہائی دائیں بازو کی دہشتگردی اور اسلام مخالف حملوں سمیت  دہشتگردی کے ہر  پہلو اور ہر نوعیت سے متعلق یکساں موقف اپنانے اور ان کے خلاف کاروائی کرنے پرمبنی ایک جامع حکمت عملی پر تنظیم کا متفق ہونا ہماری ترجیحیات میں شامل ہے،ترکی نے نیٹو کے دائرہ عمل میں اجتماعی سلامتی کے قیام کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کی ہیں اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ  فنڈز کی تقسیم محض عسکری اخراجات کے لیے ہی نہیں بلکہ دیگر شعبوں بالخصوص مہاجرین کی آباد کاری میں بھی استعمال کی جانی چاہیئے ،ترکی میں اس وقت چالیس لاکھ مہاجرین آباد ہیں جس کے لیے ہم اتحادی ممالک سے تعاون کے منتظر ہیں۔

 آلتون نے کہا کہ  دہشتگردی اور علاقائی عدم استحکام  کے خطرات کے خلاف ترکی اپنی حفاظت کا حق رکھتا ہے مگر افسوس کے نیٹو نے اس سلسلے میں ہماری کوئی مدد نہیں کی ہے۔

 

 



متعللقہ خبریں