آیا صوفیہ کبیر مسجدِ شریف میں 87 سال کے بعد پہلی دفعہ نماز عید ادا کی گئی

اسرائیل کا اقدام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور تمام اسلامی ممالک سمیت پوری دنیا کو قبضے اور ظلم کے خلاف ایک مشترکہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے: اسپیکر اسمبلی مصطفیٰ شین توپ

1638762
آیا صوفیہ کبیر مسجدِ شریف میں 87 سال کے بعد پہلی دفعہ نماز عید ادا کی گئی
sentop ayasofya.jpg
ayasofya namaz.jpg

عجائب گھر میں تبدیلی کے بعد دوبارہ مسجد کی شناخت کے ساتھ عبادت کے لئے کھولی جانے والی آیا صوفیہ کبیر مسجدِ شریف میں 87 سال کے بعد پہلی دفعہ نماز عید ادا کی گئی۔

آیا صوفیہ میں اس پہلی نماز عید کی امامت محکمہ مذہبی امور کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباش نے کی۔

کورونا وائرس حفاظتی تدابیر کی وجہ سے مسجد کے اندر محدود تعداد میں نمازیوں کو داخلے کی اجازت دی گئی، دیگر نمازیوں نے مسجد کے صحت اور خارجی میدان میں صفیں باندھیں۔

ترکی قومی اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ شین توپ، وزیر رسل و رسائل و انفراسٹرکچر عادل کھارا اسماعیل اولو، استنبول کے گورنر علی یرلی کھایا اور فاتح بلدیہ مئیر ایرگیون توران نے بھی آیا صوفیہ میں نمازِ عید ادا کی۔

نماز کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت میں مصطفیٰ شین توپ نے  مشرقی القدس اور غزہ  پر حملوں کے بارے میں بیان جاری کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ " یہ صورتحال پورے عالم اسلام کو ، دنیا کے 2 بلین سے زائد مسلمانوں کو رنجیدہ کرنے، تکلیف دینے اور  ان کی عید میں زہر گھولنے والی صورتحال ہے"۔

شین توپ نے کہا ہے کہ "یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور تمام اسلامی ممالک سمیت پوری دنیا کو قبضے اور ظلم کے خلاف ایک مشترکہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے"۔



متعللقہ خبریں