ترک گلوکارہ اُوئیکوگل نےاُردو نغمے گا کرپاکستان، بھارت اوربنگلہ دیشن میں دھوم مچادی، تفصیلی انٹرویو

ترک گلوکارہ اُوئیکوگل کی شہرت بی بی بی سی  اردو سے پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش تک پہنچ  چکی ہے اور ان کے گائے ہوئے اردو نغموں کو  بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔ تفصیلی انٹرویو کے لیے کلک کیجیے

1624959
ترک گلوکارہ اُوئیکوگل نےاُردو نغمے گا کرپاکستان، بھارت اوربنگلہ دیشن میں دھوم مچادی، تفصیلی انٹرویو

https://www.youtube.com/watch?v=8IPueJe_WIg

ویڈیو کے لیے لنک کو کلک کیجیے

 

اُوئیکو  گل  انقرہ  کی غازی یونیورسٹی میں شعبہ میوزک   میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے  اپنی تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی اردو گانے گا کر  جو شہرت حاصل کی ان کی یہ شہرت بی بی  سی - اردو سے پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش تک پہنچ  چکی ہے اور ان کے گائے ہوئے اردو نغموں کو  بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔ آج ہم اپنے اس پروگرام میں" یارِ من ترکی"  یو ٹیوب چینل  کے اینکر پرسن  ڈاکٹر  فرقان حمید کو دیے گئے انٹرویو   کو  پیش کررہے ہیں۔ ان کے ویڈیو انٹریو  نیچے لنک  کو کلک کرتے ہوئے  دیکھ سکتے ہیں۔

 

فرقان: آپ نے کب اردو سیکھنا شروع کیا؟

اُوئیکوگل: میں 9 سال کی عمر میں میں میں اردو سیکھنا شروع کر دیا تھا۔میں نے  دراصل بالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے ہوئے اردو سیکھنا شروع کیا۔میں جب چھوٹی تھی تو میرے والد صاحب فلم لے کے آئے تھے عامر خان کی لگان ۔ اس فلم کی وجہ سے مجھے گانوں میں بڑی دلچسپی پیدا ہوئی ۔ مجھے گانے بڑے پسند آئے اے رحمان کے گانے تھے ۔اس کے بعد مختلف  فلموں کو دیکھتے ہوئے اور گانے سنتے ہوئے میں نے بھی گنگنانے کا سلسلہ شروع کردیا اور اس طرح میں نے نے میں نے سیکھنے کا سلسلہ جاری تھا ۔جی ہاں کرونا کی وجہ سے سے بڑا مشکل وقت گزار رہے ہیں۔ انشاءاللہ اللہ اس پر جلد از جلد قابو پانے کی تمنا کرتی  ہوں۔  آہستہ آہستہ ویسے بھی یہ ختم ہو رہا ہے۔ ہے ۔

 

فرقان: آپ کا وقت کیسے گزرتا ہےکیا کچھ کرتی ہیں؟ 

اُوئیکوگل: کرونا کی ابتدائی اسٹیج پر تو میں کچھ نہیں کر سکی۔  ہاں البتہ میں یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں میں یونیورسٹی میں میں شعبہ موسیقی میں مختلف  کلاسیز اٹینڈ کر رہی ہو ۔ آج کل ویسے ہی آن لائن ہے ۔اپنی  ایجوکیشن کو جاری رکھے ہوئے ہوں ،  یعنی یعنی زیادہ تر گھر ہی سے کام چلتا  ہے ۔ اس دوران ترکی میں بھی کئی ایک  گانوں کے پروجیکٹ شروع ہو چکے ہیں۔ ان کے بارے میں کام کررہی ہوں  ۔ اس طرح زندگی جاری ہے۔

 

فرقان: ہمارے ناظرین کو اپنا پورا تعارف کروانا پسند فرمائیں گی؟کیسے بچپن سے یہ  زندگی گزری ہے۔ یہاں  تک   کا سفر کیسا رہا؟ اس پر ذرہ روشنی ڈالیں گی؟

اُوئیکوگل:میں اس وقت وقت 22 سال کی ہو ۔ جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ میں ترکی کے اسٹیٹ یونیورسٹی میں شعبہ میوزک سے تعلیم حاصل کر رہی ہوں   ۔ مجھے بچپن ہی سے سے اردو نغموں میں اردو گانوں میں میں بڑی دلچسپی تھی خاص طور پر  اردو میوزک  میری کمزوری تھی۔  میرا بچپن ہی سے میوسیقی  سے بڑا گہرا لگاؤ تھا ۔ کیونکہ میرے والد بھی ایک بڑے اچھے موسیقار ہیں یعنی کہا جا سکتا کہ میری فیملی موسیقی کی فیملی ہے اور میں اسی فیملی میں پروان چڑھی ہوں  لیکن جیسے ہی میں نے نےاردو   موسیقی میں دلچسپی لینا شروع کیا یا تو میں نے سوچا مجھے پاکستان   یا  ہندوستان بھی جانا چاہیے۔ ہندوستان میں  موسیقی کے ایک   مقابلے میں حصہ لیا اس وقت میں یہاں پر اپنی نئی موسیقی کی تعلیم کو جاری رکھے ہوئے ہوں ۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد میں ان شاء اللہ پاکستان یا بھارت میں موسیقی کی اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔ یعنی پاکستان یا بھارت دونوں  میں سے ایک ہوسکتا ہے۔

فرقان: میں آپ سے یہی پوچھنا چاہوں گا کہ آپ کی موسیقی میں دلچسپی کب سے شروع ہوئی ؟

اُوئیکوگل: جیسا کہ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکی ہوں گے مجھے بچپن ہی سے سے موسیقی میں بڑی گہری دلچسپی تھی میں میں موسیقی ہی میں  پلی بڑھی ہوں  ۔ہندوستان پاکستان کی موسیقی میں میں نے آٹھ نو سال کی عمر میں دلچسپی لینا شروع کر دیا۔ اس دور میں میں میں نے فلم کو دیکھتے ہوئے اور گانوں کو سنتے ہوئے اس میں گہری دلچسپی لی  اور اس طریقے سے سے اپنے آپ کو کو پروان چڑھایا ۔ جہاں تک  باقاعدہ موسیقی کی تعلیم  حاصل کرنے کا تعلق ہے تو میں نے آٹھ سال کی عمر میں موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیا  یعنی مغربی  موسیقی کی کلاسز اٹینڈ کرتے ہوئے باقاعادی تعلیم حاصل کی۔

 

فرقان: آپ ترکی میں پہلی خاتون  ہیں یعنی ترک خاتون ہیں جو اتنا اچھا اردو گانا گا لیتی  ہیں۔ کیسے آپ نے اردو گانا گانا سیکھا؟ اس اسٹیج تک کیسے آپ پہنچیں؟  اتنے اچھے طریقے سے اردو گانے گا رہی ہیں۔ ؟ 

اُوئیکوگل: شکریہ یہ میرے لئے لیے بڑی خوشی کا باعث ہے کہ آپ میرے لئے ان الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایک غیرملکی ہونے کے ناطے کسی دوسرے ملک کی زبان میں گانا گانا بڑا مشکل کام ہے ۔میں مسلسل فلمیں دیکھا کرتی تھی۔ فلموں کو دیکھتے دیکھتے ہیں میں موسیقی میں کھوتی چلی گئی ۔میرے خیال میں اردو بڑی اچھی میٹھی سویٹ زبان ہے اردو در اصل اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کے لحاظ سے بڑی اہم زبان ہے خاص طور پر عشق و محبت کے اظہار کے لئے بہت ہی میٹھی زبان ہے۔مجھے اردو زبان بہت پسند ہےاور اردو موسیقی میں بھی بڑی گہری دلچسپی ہےخاص طور پر راگ  رنگ اور  کلاسیکی موسیقی  مجھے  بہت پسند ہے اور موسیقی کو سن کر میں اپنے آپ کو تروتازہ محسوس کرتی ہوں ۔ 

فرقان: ہمارے ناظرین کو کوئی گانا گانا پسند فرمائیں گی۔

اُوئیکوگل: جی ہاں ضرور۔ کونسا گانا  گاوں۔ آفرین آفرین  گانا۔

 

فرقان: میں نے یہ چیز نوٹ کی ہے کہ اردو گانے بہت اچھے گانے لیتی ہیں لیکن آپ کو اردو زبان  بولنے میں اتنی مہارت نہیں ہے تو اردوگانا گاتے ہوئے مشکل پیش نہیں آرہی ہے؟

اُوئیکوگل: جی ہاں بڑا مشکل ہے صحیح بات ہے ۔لیکن  شاید بچپن ہی سے یہ گانے سننے کی وجہ سے گانا گاتے ہوئے مجھے مشکل پیش نہیں آتی ہے ۔مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں اپنی زبان ہی میں گانا گا رہی ہوں۔ یعنی جب میں گانے سنتی ہوں تو سنتے ہوئے مجھے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔کون سا الفاظ کہاں پر ختم ہوتا ہے کون سا الفاظ کہاں سے شروع کرنا ہوتا ہے ۔ان سب کو میں اچھی طرح پہچان لیتی ہو جان لیتی ہوں گانے سے نا واقف لوگوں کو شاید مشکلات پیش آئیں  لیکن میں بچپن ہی سے سنتے چلے آرہی ہوں اور  ان گانوں سے میرے کان آشنا ہیں اس لئے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ مجھے بہت آسان لگتے ہیں کیونکہ میں بچپن ہی سے اس موسیقی کے اندر اپنے آپ کو محسوس کرتی ہوں ہوں  ۔اس لئے مجھے اتنا مشکل نظر نہیں آتا ۔

 

فرقان: ہمارے ناظرین کو یہ بتائیے کہ آپ نے اردو گاناکہاں سے  پہلے سیکھا ہے آپ کاٹیچر یا استاد کون ہے؟ کس طریقے سے اردو گانوں کا شوق پیدا ہوا؟  

اُوئیکوگل: اصل میں دیکھا جائے تو اردو موسیقی میں ، میں  نے کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے یعنی پاکستانی ہندوستان کی موسیقی کے بارے میں میں نے کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے ہاں البتہ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے تئیں رسائی حاصل کرتے ہوئے  سب معلومات یکجا کیں  اور  ان موسیقی کی باریکیوں  تک رسائی حاصل کی اور  یوں میں خود ہی اس میدان میں آگے بڑھتی چلی گئی۔  آپ کو بتایا تھا کہ میں خود بھی موسیقی میں تعلیم حاصل کر رہی ہوں اس لئے مجھے مشکل پیش نہیں آئی ۔دیکھا جائے تو تو دنیا میں موسیقی ایک ہی ہے یا ایک ہی طرح کی موسیقی ہے لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ موسیقی کے انداز اور طرز اورراگ یا مقام  مختلف ہوتے ہیں یعنی بھارت اور پاکستان میں راگ رنگ ہماری موسیقی سے مختلف ہیں۔

 

فرقان: آپ نے اردو کا کون سا گانا  سب سے پہلے اور بڑے اچھے طریقے سےگایا؟  یعنی پہلا اردو گانا  جو آپ نے گایا وہ کونسا ہے۔ 

اُوئیکوگل: جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکی ہوں  کہ بولی وڈ میں نے گانا گانا شروع کیا ۔وہاں پر ایک گانا تھا چوری چوری عامر خان کا۔  جو مجھے  بے حد پسند آیا ۔پہلی بار میں نے یہی گانا گایا تھا۔اس کے بعد میں نے  کئی  ایک  فلموں کے گانے گنگنانے شروع کیے ۔

 

فرقان: کیا آپ کو مشکل پیش نہیں آئی ۔اردو زبان نہیں آتی تھی ۔ اردو زبان کو سیکھنا اور پھر گانا گانا مشکل پیش نہیں آئی آپ کو؟

اُوئیکوگل: جی ہاں ابتدا میں میرے لیے بڑا مشکل تھا صرف میں موسیقی ہی سنتی تھی اور موسیقی سے مجھے گہرا لگاو تھا۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں نے اردو زبان بھی سیکھنا شروع کردیا ۔ہاں میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ  مجھے  اردو  پر مہارت ہے بلکہ میں صحیح طریقے سے بول بھی نہیں سکتی لیکن اب گزارہ کر لیتی ہوں ۔الفاظ وغیرہ سمجھ لیتی ہوں ۔اب مجھے اتنا مشکل نہیں لگتا ۔

 

فرقان: آپ کو خود کونسا   اردو گانا سب سے زیادہ پسند ہے اور وہ ہمارے ناظرین کو سنانا پسند فرمائیں گی؟

اُوئیکوگل: بالکل سناوں گی۔نیناں ملائی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

فرقان: آپ بھارت بھی گئی ہیں وہاں کئی ایک  پروگراموں میں حصہ  بھی لیا ۔ کیسے جذبات ہیں؟ کیسا لگا آپ کو ؟

اُوئیکوگل: بھارت جانے سے پہلے میں نے وہاں کے مختلف پروگراموں میں میں اپنی ویڈیو شیئر کئے تھے انہیں میرے  یہ ویڈیو پسند آئے تھے۔وہاں پروگرام تیار کرنے والی ایک کمپنی کی جانب سے مجھے  میسج موصول ہوا ۔اس نے پروگرام میں حصہ لینے کے بارے میں پوچھا ۔اس میسج کے بعد میں نے میں نے پروگرام کے لئے رجوع کیا اور پھر انہوں نے مجھے آنے کے لیے مدعو کیا اس طرح انہوں نے  پروگرام میں پروگرام میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا۔ یہ میرے لئے پہلا بہت زبردست تجربہ تھا کیونکہ میں پہلی بار اسٹیج پر پروگرام میں حصہ لے رہی تھی اور خاص طور پر اپنے پسندیدہ فنکاروں کے سامنے گانا گانے کا موقع ملا تھا یہ بڑا اچھا تجربہ تھا ۔بہت اچھا تھا مجھے بہت مزا آیا۔

 

فرقان: اُن لوگوں کا ری ایکشن کیسا تھا۔ ان  لوگوں نے کیسا محسوس کیا۔ آپ اردو گانا گا رہی تھیں۔  کیسا لگا آپ کو؟

اُوئیکوگل: سب لوگ بڑے حیران ہوئے تھے کی ایک ترک ہونے کے ناطے بڑے اچھے تلفظ کے ساتھ اردو گانا گا رہی ہوں  وہ سبھی بڑے متاثر ہوئے اور مجھے بڑا اچھا رسپانس ملا ۔مجھے بہت اچھا لگا مجھے بڑی خوشی ہوئی ۔انسانوں نے تالیاں بجائیں اور مجھے داد دی 

 

فرقان: آپ کو پاکستان کی جانب  سے کسی پروگرام میں حصہ لینے کی کوئی دعوت آئی ہے؟ اگر آئی ہے تو کیا آپ پاکستان کے کسی پروگرام میں حصہ لیں گی۔ 

اُوئیکوگل: ابھی تک پاکستان سے کسی پروگرام میں حصہ لینے کی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے ۔لیکن میں پاکستان جانا بہت چاہتی ہوں ۔ پاکستان کا دورہ کرنا چاہتی ہوں۔ دعوت آئی تو ضرور جاوں گی۔ 

 

فرقان: آپ کو یاد ہوگا آپ نے انقرہ میں  پاک ترک دوستی کی انجمن کے ثقافتی پروگرام میں بھی حصہ لیا تھا۔ وہ پروگرام کیسا رہا تھاا؟ آپ کا تجربہ کیسا تھا۔ 

اُوئیکوگل: وہ میرے لئے ایک بہت اچھا  تجربہ تھا کیونکہ اس وقت تک  میں نے اردو نغمے کہیں بھی نہیں گائے تھے  اور  سوشل میڈیا پر بھی میری کوئی ویڈیو موجود نہ تھی۔یعنی وہاں پر پہلی بار میں نے ایک نغمہ گایا تھا ۔اس پروگرام میں سب ہی نے میرا نغمہ بہت پسند کیا تھا سب نے دعا دی تھی یعنی پہلی بار میں نے پاکستانی ناظرین کے سامنے گانا گایا تھا ۔ یعنی اصل میں ترک باشندوں کے سامنے تو اردو گانا گالیتی  لیتی تھیں لیکن پاکستانیوں کے سامنے پہلی بار میں نے اردو گانا گایا تھا ۔ترک باشندے اردو نہیں سمجھتے ہیں ہیں اسلیے  ان کو ان گانوں کے بارے میں کچھ زیادہ پتہ نہیں تھا  لیکن پاکستانیوں کے سامنے اردو گانا گا کر مجھے زیادہ مزہ آیا کیوں کہ انہوں نے مجھے بڑی داد  دی جس سےمیرے حوصلے بلند ہوگئے اور میں نے محسوس  کرنا شروع کردیا کہ میں  واقعی صحیح  طریقے سے  گانا گاسکتی ہوں۔ سفیر پاکستان نے بھی کھل کر داد دی تھی۔ میرے لیے بڑا اچھا تجربہ تھا ۔

 

فرقان: آپ کو دنیا کے سب سے بڑے نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے پروگرام میں آپ سے متعلق  مضمون شائع ہوا  جس کی وجہ سے آپ کی دنیا بھر میں خاص طور پر    پاکستان،  ہندوستان  اور  بنگلہ دیش  میں  آپ کی شہرت پہنچی اس بارے میں کیا کہیں گی کہ آپ کو چھوٹی  ہی عمر میں یہ شہرت مل گئی کیا کہیں گی؟ 

اُوئیکوگل: میں کیا کہہ سکتی ہوں میں بہت خوش ہوں۔ تمام انسانوں کی جانب سے کیے گئےپوزیٹو تبصروں  کی وجہ سے  میں بہت  خوش ہوں  ۔خاص طور پر سوشل میڈیا میں میرے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا جاتا ہے ۔بی بی سی کی اردو سروس  میں میرے بارے میں مضمون شائع ہونا میرے لیے ایک اعزاز ہے ۔وہ مضمون شائع ہونے پر مجھے بڑی خوشی ہوئی ۔بہت خوش ہوں ہوں  اور بہت مزہ آ رہا ہے ۔

 

فرقان: اب یہ بتائیے آپ کے مستقبل کا پلان کیا ہے؟کیا کچھ کرنا چاہتی ہیں کیا کچھ سوچا ہے۔ ہمارے ناظرین کو بتانا پسند فرمائیں گی؟

اُوئیکوگل: مستقبل کے بارے میں آپ کو یہ بتا دو ں کہ میں ابھی  موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ  جاری رکھے ہوئے ہوں  اور پہلے مجھے اپنی  یہ تعلیم مکمل کرنی ہے اور موسیقی کے شعبے  سے فراغ التحصیل ہونا ہے۔ اس کے بعد میں ہندوستان یا پاکستان میں موسیقی میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں کیونکہ میرے دل میں بچپن ہی سے اردو موسیقی کو اہم مقام حاصل ہے اور بعد میں کوئی پروجیکٹ وغیرہ آئے تو ان پروجیکٹ پر ضرور غور کرنا چاہوں گی ۔ اگر اللہ نے چاہا تو۔ 

 

فرقان: آپ نے موسیقی کی کلاسوں میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ پاکستان اور ہندستان کی کلاسیکل موسیقی یعنی راگ  رنگ وغیرہ   میں کوئی تعلیم حاصل کرنے  کا منصوبہ ہے؟

اُوئیکوگل: جی ہاں میں  کلاسیکل موسیقی میں بڑی دلچسپی رکھتی ہوں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے آج تک جتنی بھی کوشش کی ہے کہ اس کلاسیکی موسیقی کو سیکھنے  میں تھوڑی بہت کامیاب رہی ہوں اور ابھی مزید اس طرف توجہ مبذول کیے ہوئے ہوں ۔  میں گانے سنتی ہوں گاتی ہوں گانے سننے سے بڑی اچھی پریکٹس  ہو جاتی ہے اور اس طرح ہی میں پریکٹس جاری رکھتے ہوئے ،   اپنے آپ کو مزید پروان چڑھاتی ہو لیکن مجھے پختہ یقین ہے کہ اگر اس فیلڈ میں مزید تعلیم حاصل کروں گی تو زیادہ بہتر طریقے سے گا سکوں گی۔ 

 

فرقان: آپ نے ایک گانا  بے خبر خود ہی کمپوز کیا ہے؟ اسے کیسے کمپوز کیا؟ اردو میں اتنی مہارت نہیں لیکن آپ نے یہ کیسے سب کچھ کرلیا؟

اُوئیکوگل: جیسا کہ میں عرض کر چکی ہوں کہ مجھے اردو زبان سے بڑی محبت ہے یعنی اردو زبان میں اپنے یا اپنے مافی الضمیر بیان کرنے میں مجھے کوئی  مشکل پیش نہیں آتی ویسے بھی اردو اور ترکی زبان میں  کئی ایک مشترکہ الفاظ بھی ہیں جس سے مجھے بڑی مددملتی  اور میں نے جو نغمہ کمپوز کیا ہے اسی میں بھی اسی طرح کے مشترکہ الفاظ استعمال کیے ہیں اور موسیقی کیونکہ   میں بچپن سے سنتے چلی آ رہی ہوںاور بہت اچھے طریقے سے  آشنا  بھی ہوں اس لیے  یہ نغمہ  کمپوز کرنے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ جہاں تک ممکن ہوتا ہےمیری کوشش ہوتی ہے  بہتر سے بہتر طریقے سے  گانا گاوں تو بہتر کی تلاش میں اس نغمے کو تیار کیا ہے  ۔  میں یہ تو نہیں  کہوں گی کہ بہت زبردست کمپوز ہوا ہے لیکن جو کچھ کر سکتی تھی وہ میں نے کیا ہے مجھے کمپوز کرنا اچھا لگتا ہے اور بھی نغمے کمپوز کر رہی ہوں کیونکہ مجھے اس کام سے محبت ہے۔  

 

فرقان: پروگرام کے آخر میں ہمارے ناظرین  کو کونسا گانا سنانا پسند فرمائیں  گی؟

اُوئیکوگل: پروگرام کے آخر میں عاطف اسلام کی بھی گائی ہوئی قوالی تاجدار حرم پیش کرنا چاہوں گی۔ 

۔۔۔۔۔۔

 



متعللقہ خبریں