حطائے اور غازی انتیپ کے میوزیمز اپنے موزائق شاہکاروں کی بدلوت دنیا کی توجہ کا مرکز

ہزاروں سالوں سے متعدد تہذیبوں کی گہوارے  حطائے  میں کی جانے والی کھدائی کے دوران  بے شمار موزائق  برآمد ہوئے ہیں جن کی نمائش حطائے  آرکیالوجی  اور نجمی  آسفور اولو میوزیمز  میں کی جا رہی ہے

1616696
حطائے اور غازی انتیپ کے میوزیمز اپنے موزائق شاہکاروں کی بدلوت دنیا کی توجہ کا مرکز

ترکی کے سب سے بڑےموزائق  میوزیم والے شہرغازی انتیپ اور حطائے  دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

ہزاروں سالوں سے متعدد تہذیبوں کی گہوارے  حطائے  میں کی جانے والی کھدائی کے دوران  بے شمار موزائق  برآمد ہوئے ہیں جن کی نمائش حطائے  آرکیالوجی  اور نجمی  آسفور اولو میوزیمز  میں کی جا رہی ہے۔

ان میوزیمز میں زیادہ تر ، دوسری اور چھٹی صدی قبلِ مسیح  کے موزائق  شاہکاروں  کی نمائش کی جا رہی ہے۔

 گذشتہ سال سیاحت کے لئے کھولے گئے آسفور اولو  آثار قدیمہ میوزیم جو کہ 1200 مربع میٹر تک پھیلا ہوا ہے میں  6 ویں صدی عیسوی کے موزائق شاہکاروں کی نمائش کی جا رہی ہے۔

ترکی کا تاریخی شہر  حطائے نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ  بیرون ملک موزائق کے شاہکاروں کی وجہ سے دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔  

غازی انتپ میں زیگما موزائق  میوزیم کے علاوہ  تاریخی عمارتوں کے ساتھ ہزاروں مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی میزبانی کرتا ہے  اور  دیکھنے والوں کو ناقابل فراموش تاریخی ماحول فراہم کرتا ہے۔

مجسمہ ، بنیادی طور پر رومن اور بازنطینی ادوار ، کالموں ، فن تعمیر سے متعلق اور جہاں چشمہ ہے ، 2 ہزار 500 مربع میٹر کا علاقہ عجائب گھروں ، خاص طور پر زیگما کی "مونا لیزا" جیسا کہ دیکھا جاسکتا ہے اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 52 سال بعد ترکی کھڑا ہے۔ "خانہ بدوش لڑکی" موزائق کو ترکی کے حوالے کردیا گیا اور اس کی نمائش بھی کی جا رہی ہے۔

رومن عہد میں مریخ کا مجسمہ ، جسے جنگ کے دیوتا کے طور پر جانا جاتا ہے ، میوزیم کے دلچسپ شاہکاروں میں سے ایک ہے۔

میوزیم  جسے  "صدارتی ثقافت اور آرٹ گرانڈ پرائز" بھی دیا جا چکا   ہے اپنی عمارت اور موزیکوں کے زیر احاطہ والے علاقے کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان تمام شاہکاروں  کو دیکھ کر زائرین حیرت زدہ  ہو جاتے ہیں۔



متعللقہ خبریں