مسئلہ کشمیرپرترکی کی حمایت کےمشکورہیں:سفیرپاکستان،ہمارادل کشمیریوں کی آزادی کیلیے تڑپتاہے:مہمت بالتا

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں یومِ یک جہتی کشمیر کے موقع پرسفارت خانہ پاکستان کے احاطے میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ پانچ  فروری  کو   دنیا بھر میں کشمیری اور پاکستانی یوم یکجہتی  کشمیر کے طور پر مناتے ہیںجس میں ترک باشندے بھی شامل ہوتے ہیں

1578089
مسئلہ کشمیرپرترکی کی حمایت کےمشکورہیں:سفیرپاکستان،ہمارادل کشمیریوں کی آزادی کیلیے تڑپتاہے:مہمت بالتا

آج ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں یومِ یک جہتی کشمیر کے موقع پرسفارت خانہ پاکستان کے احاطے میں   ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

اس تقریب میں  کرونا وائرس  کے باوجود بڑی تعداد میں  انقرہ میں مقیم پاکستانی اور  ترک باشندوں  نے شرکت کرتے ہوئے  کشمیر کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔

تقریب کا آغاز  تلاوتِ کلام پاک سے ہوا اور اس کے بعد  سفارتخانہ پاکستان میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن محمد ارشد جان پٹھان   نے صدر پاکستان  ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے پیغام پڑھ کر سنائے۔

اس کے بعد سفیر پاکستان  محمد سائرس سجاد قاضی  نے خطاب کرتے ہوئے  حکومتِ ترکی  اور خاص طور پر صدر رجب طیب ایردوان کا کشمیر کی مکمل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ  پانچ  فروری  کو   دنیا بھر میں کشمیری اور پاکستانی یوم یکجہتی  کشمیر کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے  کی سخت یاد دہانی کا دن ہے۔ مسئلہ  کشمیر   کو پہلی بار جنوری 1948 میں اقوام متحدہ میں  پیش کیا گیا اور اس پر قراداد منظور  کی گئی لیکن آج تک اس قرارداد پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری آپ جدو جہد کا آزادی حاصل کرنے تک جاری رکھیں گے۔  ۔ وہ اپنے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ ایک سال  سے زاہد  عرصے سے کشمیر  کا فوجی گھیراو کر رکھا ہے اور مواصلاتی ناکہ بندی جاری ہے۔  

انہوں نے کہا کہ  بھارتی فوج بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ، پیلٹ ہتھیاروں کا استعمال بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جو ہزاروں افراد کو زخمی کرنے کے ساتھ ساتھ بینائی سے محروم کرنے کا موجب بن رہی ہیں۔    

انہوں نے کہا  کہ  پاکستان اقوام متحدہ اور انسانی حقوق اور انسان دوست تنظیموں سمیت تمام متعلقہ بین الاقوامی فورموں میں جموں و کشمیر تنازعہ کو اجاگر کرتا رہے گا۔ مزید یہ کہ ترکی اور جموں و کشمیر کے تنازعہ کے بارے میں حکومت کی اصولی حیثیت ، ترکی کی پارلیمنٹ اور ہم عوام سمیت ترکی کی حمایت کے لئے بے حد مشکور ہیں۔ جموں و کشمیر کے عوام ، پاکستانی عوام اور حکومت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے اپنے ترک بھائیوں کی بھر پور حمایت پر  ان کے  دلی طور پر مشکور ہیں۔

اس موقع پرترکی کی قومی  اسمبلی  میں ماحولیاتی  کمیٹی کے چئیرمین مہمت بالتا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے ترکی کی قومی اسمبلی کی جانب سے  یومِ یکجہتی کشمیر  پر آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے کشمیر کی آزادی کے لیے جدو جہد کا سلسلہ ظلم و ستم کے باوجود جاری رکھا ہوا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ دوستانہ اور بردرانہ تعلقات  دکھ و درد میں ا یک دوسرے کا ساتھ  دینے کے علاوہ   کے علاوہ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہونے کا نام بھی ہے۔

جس طرح پاکستانیوں کا دل کشمیری بھائیوں کے لیے دھڑکتا ہے بالکل اسی طرح ترکوں کا دل  بھی  مظلوم کشمییری بھائیوں کے لیے تڑپتا ہے۔

ترک صدر  رجب طیب ایردوان  ہر پلیٹ فارم میں ، خصوصا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئَ دنیا کو واضح بیان دے چکے ہیں  کہ  ترکی کشمیری  بھائیوں کی ان کی آزادی تک بھر پور حمایت جاری ر کھے گا۔

انہوں نے کہا کہ   مسئلہ کشمیر ہی سے جنوبی ایشیاء کا امن و استحکام  جڑا ہوا ہے۔ اس مسئلے جس گزشتہ 74 سالوں سے حل نہیں کیا گیا ہے حل کرنے ہی سے خطے میں امن قائم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ  بھارت کی جانب سے   5 اگست  2019 کو آئین کے آرٹیکل 370 کو  یکطرفہ خاتمے کے ساتھ ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت ختم ہونے سے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

مذکورہ بالا فیصلے کے بعد سے جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے اور دیگر طریقوں کو تبدیل کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے خطے کے عوام  خاص طور پر   مسلمانوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ترکی ان تمام اقدامات کی سختی سے مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ہم سمجھتے ہیں کہ پوری بین الاقوامی برادری کو اقوام متحدہ کے فیصلوں پر خلوص نیت سے عمل کرنا چاہئے۔ عالمی برادری کو کشمیر میں اپنے بھائیوں کی حالت زار کو نظرانداز اور نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

سفارت  خانہ پاکستان میں منعقد ہونے والی یہ تقریب  کشمیر کی آزادی کی دعا کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی ۔



متعللقہ خبریں