ترکی: یونان کا بیان غیر مستند ہے، ترکی کی سسمک کاروائیاں اس کے اپنے بحری طاس میں ہیں

اوروچ رئیس کی کاروائیوں کا علاقہ ہمارے ملک کے بین الاقوامی قوانین کی بنیادوں پر تصدیق شدہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے رجسٹر شدہ بحری طاس میں شامل ہے: حامی آق سوئے

1515847
ترکی: یونان کا بیان غیر مستند ہے، ترکی کی سسمک کاروائیاں اس کے اپنے بحری طاس میں ہیں

ترکی نے کہا ہے کہ اوروچ رئیس کی سسمک کاروائیاں اس کے اپنے بحری طاس کی حدود میں ہیں۔

ترکی وزارت خارجہ کے ترجمان حامی آق سوئے نے یونا ن وزارت خارجہ کے، مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی سسمک کاروائیوں سے متعلق،  جاری کردہ بیان کا تحریری جواب دیا ہے۔

آق سوئے نے کہا ہے کہ یونان وزارت خارجہ کا یہ بیان انتہائی غیر مستند ہے کہ ترکی کی مشرقی بحیرہ روم کے بحری طاس میں جاری کاروائیاں غیر قانونی ہیں اور  یونان کے بحری طاس میں کی جا رہی ہیں ۔

آق سوئے نے کہا ہے کہ ہمارا سسمک بحری جہاز  اوروچ رئیس جس علاقے میں کاروائیاں کر رہا ہے وہ ہمارے ملک کے بین الاقوامی قوانین کی بنیادوں پر تصدیق شدہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے رجسٹر شدہ بحری طاس میں شامل ہے۔ اس صورتحال سے 23 اکتوبر 2020 کو انقرہ میں یونان کے سفیر کو بھی ایک دفعہ پھر وضاحت کے ساتھ آگاہ کر دیا گیا ہے۔25 اکتوبر سے 4 نومبر 2020 کے دوران اوروچ رئیس کی سسمک کاروائیوں کے لئے موجودہ علاقہ یونان کی برّی حدود سے 440 اور ترکی کی برّی حدود سے 130 کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان حامی آق سوئے نے کہا ہے کہ ترکی ہمیشہ کی طرح اب بھی ، مشرقی بحیرہ روم میں اپنے اور شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے جائز حقوق  کےضامن اور عدل و انصاف کی بنیادوں پر مبنی حل کے لئے، ڈائیلاگ اور تعاون کے لئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یونان سے بھی ہم، ترکی کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کے لئے حیلے بہانوں سے اور پیشگی شرائط لگانے سے پرہیز کرنے کی ، توقع رکھتے ہیں۔



متعللقہ خبریں