ترکی ۔ قطر باہمی اتحاد و مستقبل مشرق وسطی کے زیرِ عنوان خصوصی پینل

ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد صدر ایردوان نے خارجہ پالیسیوں میں فی الفور تبدیلی لائی جس کا اندازہ ترکی کی مشرق وسطی کے اندر مداخلت اور کاروائیوں سے ہوتا ہے

1469430
ترکی ۔ قطر باہمی اتحاد و مستقبل مشرق وسطی کے زیرِ عنوان خصوصی پینل

انسٹیٹیوٹ آف کنفلکٹ ریزولیوشن   آئی آئی سی آر  کے زیرِ اہتمام مورخہ 6 اگست کو ’’ترکی۔ قطر باہمی اتحاد اور مشرق ِ وسطی کا مستقبل‘‘ ویڈیو  پینل   کا انعقاد کیا گیا۔

اس کانفرس کے مقررین  استنبول صباحدین  ضائم یونیورسٹی سے  پروفیسر ڈاکٹر حمید ایرسوئے،   کالم نگار و اکیڈمیشن  ڈاکٹر ابراہیم قارا طاش سیاسی علوم کے ماہر ڈاکٹر علی خان لیمون جو اولو تھے۔  

ڈاکٹر علی خان نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ممالک کے روابط ماضی سے چلے آرہے ہیں، کیونکہ قطری عوام نے عثمانیوں کی مشرق وسطی میں پیش قدمی کا خیر مقدم کیا تھا۔  جب سے آق پارٹی بر سرِ اقتدار آئی ہے تب سے ترک۔ قطری باہمی تعاون  نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ کیونکہ اقتدار پارٹی مشرق وسطی کے علاقے کے ساتھ دوستانہ اور مضبوط تعلقات استوار کرنے کی خواہاں تھی۔ حالیہ قطر بحران کے دوران ایران کے ساتھ ساتھ ترکی نے اس ملک کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا   اور عسکری تعاون کو بھی فروغ ملا۔  یہ تمام تر کوششیں مشرق وسطی میں امن کے ماحول کو برقرار رکھنے کا مقصد رکھتی تھیں۔

پروفیسر ڈاکٹر حمید  ایرسوئے نے  بعض تاریخی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ الا ثانی فیملی  کی اس مقام پر 1825 سے حکومت قائم ہے جن کے دولت ِ عثمانیہ کےساتھ دیرینہ تعلقات استوار تھے۔   جدید ترکی کی بنیاد رکھے جانے کے بعد مشرق وسطی سے اس کے تعلقات ایک طویل عرصے تک  جمود کا  شکار رہے  تا ہم بعد نے اس کے لیے اس خطے کے ساتھ  اچھے تعلقات قائم نا گزیر بن گا۔ انہو ں نے مزید بتایا کہ قطر کا ساتھ ترکی کے عسکری تعلقات بھی کافی  مضبوط ہیں کیونکہ اس ملک  کٹھن حالات میں ترکی جیسے دوست ممالک کی فوجی طاقت کا سہارا لینا پڑے گا۔ علاوہ ازیں  باہمی اقتصادی تعلقات میں تقویت بھی عالم سطح پر دونوں ممالک کو ایک اہم سطح پر رکھنے میں  معاونت فراہم کرے گی۔ایرسوئے نے آخر میں زور دیتے  ہوئے کہا کہ  اتحاد قائم کرنا آسان لیکن اسے نبھانا مشکل ہوتا ہے۔

مقرر ڈاکٹر ابراہیم قارا طاش نے اس موقع پر کہا کہ  ترکی اور قطر کے منابین جدید سطح کے  اتحاد کی داغ بیل  صدر رجب طیب ایردوان کے بر سرِ اقتدار آنے  کے  برس 2002 میں ڈالی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ  باہمی اتحاد  خواہش سے بڑھ کر وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔ قطر ایک چھوٹا ملک ہے لہذا اسے اپنے ساتھ ایک بڑے اور طاقتور مسلم ملک کو ملانا لازم وملزوم تھا۔ ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد صدر ایردوان نے خارجہ پالیسیوں میں فی الفور تبدیلی لائی جس کا اندازہ ترکی کی مشرق وسطی کے اندر مداخلت اور کاروائیوں سے ہوتا ہے۔  دونوں کے مابین ذہنی مطابقت بھی باہمی اتحاد کی ایک کنجی ہے۔

اس پینل کا اختتام  محترمہ صباح اسلم  جو کہ آئی آئی سی آر کی سی ای و بھی ہیں کے تاثرات  اور سوال جواب کے ساتھ ہوا۔

 



متعللقہ خبریں