بھارت کی جانب سےجموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنےسےخطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں: سفیر پاکستان

انہوں نے ان خیالات کا اظہار استنبول یونیورسٹی  کی فیکلٹی آف لیٹرز  کے شعبہ  اردو لسان اور ادب کے زیراہتمام  منعقد ہونے والے   "5 اگست 2019 سے آج تک: کشمیر میں نہ ختم ہونے والا مارشل لاء" کے زیر عنوان سیمینار  سے خطاب کرتے ہوئے کیا

1468036
بھارت کی جانب سےجموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنےسےخطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں: سفیر پاکستان

ترکی میں  پاکستان کے سفیر محمد سائرس سجاد قاضی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ضمانت دینے والوں مادوں کو نکالنے سے  جنگ کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار استنبول یونیورسٹی  کی فیکلٹی آف لیٹرز  کے شعبہ  اردو لسان اور ادب کے زیراہتمام  منعقد ہونے والے   "5 اگست 2019 سے آج تک: کشمیر میں نہ ختم ہونے والا مارشل لاء" کے زیر عنوان سیمینار  سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر  کیے جانے والے  اس سیمینار میں میزبان کے فرائض  پروفیسر ڈاکٹر  جلال سوئیدان نے سر انجام دیے۔

اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےترکی میں پاکستان کے سفیر محمد سائڑس سجاد قاضی نے کہا کہ

بھارتی  حکومت نے 5 اگست 2019 کو یکطرفہ طور پر ہندوستانی آئین کے آئینی آرٹیکل 35/اے اور 370 کو ختم کردیا  ہےجبکہ یہ مادے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ضمانت دی ہے۔ بھارت کی طرف سے ان مادوں  کو یکطرفہ طور پر ہٹانا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے فیصلوں کے منافی ہے۔ اس فیصلے کو پاکستان اور عالمی برادری نے مسترد کردیا تھا۔ ان یکطرفہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کو جنگ کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت  کے اس اقدام کو بین الاقوامی  سطح پر مسترد کیے جانے کے  باوجود ، بھارت  خطے میں طاقت کے ذریعہ اس پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ "ایک سال سے زیادہ عرصے سے کشمیر میں فوجی محاصرہ جاری ہے ، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ہی انسانی حالت بدتر ہوتی جارہی ہے۔

سفیر پاکستان سجاد قاضی نے کہا کہ کشمیر میں  طوالت اختیار کرتا ہوا محاصرہ ، بلاوجہ  نظربندیاں ، غیرقانونی سزائے موت ، کشمیر میں غیر متناسب طاقت کا استعمال ، نہتے کشمیری مظاہرین کے خلاف کلسٹر ہتھیاروں کا استعمال اور کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کی نظربند مدت میں توسیع کرنا روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ پاکستان ، بھارت کے  کشمیر کی آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے اس اقدام کو  تبدیل  کرنے کے یک طرفہ اقدام کو واپس لینے اور بھارت کو  جلد از جلد کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔

استنبول میں پاکستان کے قونصل جنرل بلال خان پاشا نے کہا کہ  اقوام  متحدہ کی قراردادوں نے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دے رکھا ہے جس پر بھارت کو عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار کی افتتاحی تقریر کرتے ہوئے شعبہ اردو زبان و ادب کے پروفیسر۔ ڈاکٹر خلیل طوقار نے کہا کہ  5 اگست 2019 سے بھارت کے  جمو ں کشمیر پر قبضہ ظلم و بربریت کی تاریخ  کا ایک  سیاہ صفحہ ہے۔

استنبول یونیورسٹی فیکلٹی آف لیٹرز ڈین پروفیسر ڈاکٹر  حیاتی  دیوےلی  نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا  کہ وہ  استنبول یونیورسٹی فیکلٹی آف لٹریچر ہونے کے ناطے اس معاملے  کو  ترکی اور  بین الاقوامی برادری کے ایجنڈے پر رکھنے  کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔



متعللقہ خبریں