پاکستانی فلم یاڈرامہ میں خواہشات کےمطابق رول ملنے پرکام کرناباعث اعزازہوگا: انگین آلتان، ارطغرل غازی

اگر پاکستان کی فلم انڈسٹری  یا ڈرامہ انڈسٹری نے کسی ڈرامہ یا فلم میں رول  ادا کرنے کی پیش کش کی تو لازمی طور پر  اس پر غور کروں گا۔ تفصیلی انٹرویو کے لیے لنک کو کلک کیجیے

1465592
پاکستانی فلم یاڈرامہ میں خواہشات کےمطابق رول ملنے پرکام کرناباعث اعزازہوگا: انگین آلتان، ارطغرل غازی

 

اگر پاکستان کی فلم انڈسٹری  یا ڈرامہ انڈسٹری نے کسی ڈرامہ یا فلم میں رول  ادا کرنے کی پیش کش کی تو لازمی طور پر  اس پر غور کروں گا اور سینریو میں  خواہشات کے مطابق رول  ملنے پر برادر ملک پاکستان کے ڈرامہ یا فلم میں کام کرنا میرے لیے اعزاز  کا باعث ہوگاور اس طرح پاکستانی عوام کی محبت کا قرضہ بھی چکا  دوں گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے  " یارِ من ترکی" یو ٹیوب چینل  ، پی ٹی وی  اور ٹی آر ٹی- اردو کو مشترکہ  انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

 

فرقان           آپ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں؟۔ کب کہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ۔ گھر کا ماحول؟ زبانیں کون کون سی جانتے ہیں؟ گھر یلو زندگی کے بارے میں بتائیں؟

انگین            میں سال  1979 میں ازمیر میں پیدا ہوا۔ میں نے دوکوز، اےلول (Dokuz Eylul) یونیورسٹی  میں شعبہ فلم اور تھیٹر سے گریجویشن کی۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد میں مستقل طور پر  استنبول میں  رہائش پذیر ہوگیا۔اور  گزشتہ 20 سالوں  سے استنبول میں پیشہ ور اداکار کی حیثیت سے سے خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ مجھے  انگرزی زبان آتی ہے۔  اور ترکی زبان میری مادری زبان ہےاس کے علاوہ  کوئی اور زبان نہیں جانتا ہوں۔

آج کل آپ  دیکھتے ہوں گے میں عام طور پر  گھر پر ہی ہوتا ہوں اور اپنا زیادہ تر وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزارتا ہوں۔ میں دراصل  ان انسانوں میں سے ایک ہوں جو اپنا زیادہ وقت اپنی فیملی  کے ساتھ گزارنے  پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔  

یہی وجہ ہے کہ میں آج کل بہت خوش ہوں کیونکہ میں اپنا زیادہ وقت  اپنی فیملی کے ساتھ گزار رہا ہوں۔  بچوں کی کی پرورش اور   ان کی دیکھ بھال کی طرف  بھر پور توجہ دے رہا ہوں جو میرے لیے خوشی کا باعث بھی ہے۔

جی ہاں میرے لیے بڑے اچھے دن ہیں اور اب حالات آہستہ آہستہ نارمل سطح پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔اور ایک دفعہ پھر وہی پرانی مصروفیات کا آغاز ہونے والا ہے ۔

 

 

فرقان          آج کل کیا مصروفیات ہیں؟ کونسا پروجیکٹ چل رہا ہے؟

 

انگین            دیکھا جائے تو تو نئے  پراجیکٹ وغیرہ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ یعنی  ااس دوران مختلف پراجیکٹ کا جائزہ لینے کا سلسلہ جاری ہے لیکن کسی پراجیکٹ کے بارے میں فیصلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔  

میں اپنی  ٹیم کے ساتھ مل کر ان تمام پراجیکٹ کا کا جائزہ لے  رہا ہوں۔ میں اس وقت   جس  پراجیکٹ پر کام کررہا ہوں وہ ایک سرپرائز  پارجیکٹ ہے ۔  میں اس وقت اس پراجیکٹ کے بارے میں  کسی کو معلومات ابھی تک اسے خفیہ رکھا ہوا ہے۔ لیکن ماضی قریب  میں نےمیں نے ایک ڈاکومنٹری  بنانے کا سلسلہ شروع کیا تھا  جو ابھی بھی جاری ہے۔یہ ڈاکومنٹری  پلاسٹک کے روزمرہ استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل  اور پیدا ہونے والی پولیشن سے متعلق ہے ۔اس کے اثرات پوری دنیا پر  مرتب ہو رہے ہیں خاص طور پر  مشرق بعید کے ممالک میں  اس  سے پیدا ہونے والی بیماریوں  اور پانی کے گدلہ ہونے اور پانی کے مسئلے کے ابھر کر سامنےوالی خرابیوں جیسے مسائل کو اس ڈاکومینٹری  میں جگہ دی گئی ہے۔ میری یہ ڈاکومنٹری تقریبا تقریبا مکمل ہو چکی ہے ہے اور جلد ہی  میں   اسے نمائش کے لیے یے پیش کروں گا۔

اس کے علاوہ بھی دیگر  کئی  ایک پراجیکٹس  پر کام کررہا ہوں لیکن  فی الحال  ان پر روشنی نہیں دالوں گا۔

فرقان          آج کل آپ فوکس اورحان آتماجا کا کریکٹر  ڈرامے میں ادا کررہے ہیں ۔ اس

بارے میں  ہمارے ناظرین کیا کہنا چاہیں گے؟ 

انگین             دراصل اس ڈرامے میں ، میں  نے جو کردار ادا کیا ہے ہے وہ بڑا دلچسپ کردار ہے۔ دیکھا جائے تو  اس کردار کے دو پہلو  ہیں۔ ایک  پہلو انصاف فراہم کرنے والا پہلو  ہے  اور دوسرا  پہلو انسانیت کا پہلو ہے۔

انسانی پہلو کے ناطے میں  نے  زندگی میں میں انسانی کمزوریوں کو  اجاگر کیا  اور اس سلسلے  میں کی جانے والی جدوجہد  جہد کو جگہ دی ہے جبکہ دوسری طرف سرکاری ملازم یعنی پراسیکیوٹر  ہونے کے ناطے تھے اس پر عائد فرائض کی ادائیگی  اور  انسانی  کمزوریوں کے سامنے اس کے  کردار کا اجا گر کیا ہے۔

یہ میرا بڑا دلچسپ کردار تھا اور اس کردار  کو خوب انجوائے کرتے ہوئے ادا کیا ہے۔

لیکن بدقسمتی  سے یہ  پروگرام  طویل عرصے نہیں چل سکا ۔ میں نے ایک اداکار ہونے کے ناتے  اس ڈرامے میں بڑا انجوائے  کیا اور اس کردار سے مجھے خوشی بھی محسوس ہوئی۔

 

فرقان          آپ کی اپنی پسندیدہ فلم یا ڈرامہ کونسا ہے جو آپ بار بار  دیکھنا پسند کرتے ہیں؟

 

انگین            دراصل میں ڈراموں کو  یا فلموں کو  بار بار  نہیں دیکھتا ہوں ۔ ہاں البتہ یہ ضرور کرتا ہوں ہوں جیسے کہ میں نے  اس  ڈرامے ارطغرل  غازی میں کیا۔  شوٹنگ سے پہلے ادا  کی ہوئی  پرفارمنس کو  لازمی طور پر دیکھتا رہا ۔ مقصد اداکی ہوئی پرفارمانس  میں کوئی کمی یا  غلطی  ہو گئی ہو تو اس میں  یانے آنے والے  پرگراموں میں نہ   دہراوں  ۔ اور  کس طرح اس سے بہتر کردار ادا کرسکتا ہوں۔ لیکن جب یہ پراجیکٹ یا پروگرام وغیرہ  ختم ہو جاتے ہیں تو پھر میں بیٹھ کر   ان کو نہیں دیکھتا ہوں  کیونکہ میرے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا  کہ  میں پھر سے  بیٹھ کر  ان ڈراموں کو دیکھوں ۔ میں اس دروان نئے پراجیکٹ  وغیرہ کا ہر طرح سے جائزہ لیتا ہوں ۔ ان میں  اپنی اداکاری کے بارے  سوچتا ہوں۔  لیکن اس کے ساتھ یہ بھی آپ کو بتا دوں جب پراجیکٹ  وغیر ہ ختم ہو جائے  اور آپ اس پراجیکٹ وغیرہ  کو بھول چکے ہوں   اور اور پھر اچانک آپ کے سامنے آ جائے تو  پھر اس  کو بڑا انجوائے کرتے ہوئے دیکھتا  ہوں۔

فرقان          آپ نے چھ سال ڈرامہ سیریل ار طغرل  غازی میں رول ادا کیا ہے۔ اس میں  کونسے سیزن میں آپ کو اپنا کردار سب سے زیادہ پسند آیا ہے ؟

 

انگین             جی ہاں  ہم نے تقریبا چھ سال  اکھٹا  کام کیا ہے۔  یہ ایک طویل عرصہ ہے۔ہم نے اس ڈرامے میں  دراصل سب کا اپنا بہن بھائی سمجھتے ہوئے ہی  کام کیا ہے۔ ۔اس ڈرامے کے دوران ڈرامے کی فضا کو خوشگوار بنانے کے لیے  بہت کام کیا۔ ہم نے اپنے پروڈیوسر ، ڈائریکٹر اور خود  میں نے سب  کو ایک جگہ یکجا کرنے  اور سب کے ساتھ قریبی مراسم قائم کرنے کی  بھر پور کوشش کی، جس میں ہم کامیاب بھی رہے۔  اور ان  خوشگوار تعلقات کے نتیجے ہی میں  ڈرامے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ۔ ظاہر اتنا عرصہ  اکھٹا رہنے کی وجہ سے ہمارے دلوں میں ابھی بھی   کئی ایک  یادگاری لمحات  موجود ہیں۔ اگر آپ کے پاس وقت ہوتا تو آپ کو کئی ایک یادگاری لمحات  سے آگا کرتا لیکن  وقت کی کمی کے باعث اس وقت  آپ کو ایک دلچسپ واقعے سے آگاہ کرتا چلوں ۔ ڈرامے میں ایک  لڑائی کی منظر کو فلمایا جا رہا تھا۔  اس   بارے میں میں ڈرامے کے ڈائریکٹر متین صاحب نے لڑائی کے اس منظر کو ایک ہی شوٹ  میں فلمانے کا فیصلہ کیا تھا۔  یہ سین لگ بھگ  چار  سے  ساڑھے  چار منٹ کا تھا ۔یہ سین دراصل ارطغرل کو زہر دینے کا ایک منظر تھا۔ اس طویل سین میں کیمرہ باہر سے آتے ہوئے  خیمے کے اندر  تک پہنچ رہا تھا  اور ساتھ ہی  لگی ہوئی آگ کے منظر کو  بھی پیش کرنا تھا۔ یہ سب کچھ ایک ہی شوٹ میں ادا کیا جانا تھا۔خیمے کے اندر پانچ چھ جنگجو میرے پر حملہ آور  ہوتے ہیں  ۔ یہ تمام مناظر بڑے خوبصورت طریقے سے فلمائے جا رہے تھے لیکن آخری سین  میں میرے ساتھ لڑائی کرنے والا اداکار  اپنے سین ہی کو بھول جاتا ہے۔ ظاہر ہے پورے سین کو ایک ہی شوٹ میں فلمائے جانے کی وجہ سے   دو تین بار اس کو فلمانے کی کوشش کی گئی  لیکن ہر بار میرا یہ ساتھی اس آخری سین   مجھے  دیکھ کر   ہیجان خیز کیفیت میں مبتلا ہو کر بھول جاتا  جس پر  میں اس کے پاس گیا  اور بڑے پیار و محبت  اس کو اس کے سین کے بارے میں سمجھایا  بلکہ میں نے  اس کی تعریفوں  کے پل  باندھ دیے تم بڑے بہادر ہو، تم  شیر ہو، تم یہ ہو  تو وہ تاکہ وہ ہیجان خیز کیفیت سے نکل کر پُر سکون طریقے سے کردار ادا کرسکےاور اپنے آخری سین  میں مجھ پر تلوار کا وار کرسکے۔  میری اس حوصلہ افزائی پر اس نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں میں اس بار یہ سین کرلوں گا۔  ہم نے اس کے بعد نئے سرے سے  اس  سین کو  فلمانا شروع کردیا ۔

جیسے ہی پھر سے  شوٹنگ  شروع   ہوئی  اور آخری سین پر ابھی میں  پیچھے مڑا بھی نہیں ہوں کہ میں نے اپنے سر پر  ایک سخت وار محسوس کیا۔ میرا سر چکراگیا  اور چہرہ لہولہان ہوگیا۔اس پر میرے اس ساتھی نے کہا اس بار میں  نے وقت سے پہلے ہی وار کردیا جس پر مجھے بہت افسوس ہے لیکن میرا چہرہ لہولہان  ہوچکا  تھا  اور اب شوٹنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔  اس طرح کے کئی ایک واقعات اس ڈرامہ  سیریل کے موقع پر پیش آئے ۔ کئی ایک واقعات  پر ہم نے کوب انجوائے کیا اور کئی ایک واقعات پر دکھ اور درد کا بھی احساس ہوا ۔ ایسے کئی ایک واقعات میرے دل پر نقوش ہیں۔

 

فرقان          کیا ابتدا  میں آپ معلوم تھا کہ  یہ ڈرامہ اتنا مشہور ہوگا  ؟ شروع میں آپ کی کیا سوچ تھی؟ کیا خیالات تھے  ؟

انگین             اس سوال  کا جواب میں یوں دے سکتا ہوں کہ میں  کسی ایسے ڈرامے میں حصہ نہیں لیتا  جس کی  کامیابی کے امکانات موجود نہ ہوں۔ میں نے پراجیکٹ کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھ لیا تھا کہ یہ  ڈرامہ لازمی طور پر کامیاب ہوگا۔  

میں کئی بار اس سے قبل دیے گئے انٹرویوز میں کہا چکا ہوں  کہ اس وقت ہمیں جو پراجیکٹ وغیرہ پیش کیے گئے یہ پراجیکٹ  ان  میں سب سے  بہترین پراجیکٹ تھا۔

اس ڈرامے میں سچے، کھرے , پاک صاف ، شفاف  یا غیر بناوٹی  پیار و محبت کو پیش  کرنے کے ساتھ  ساتھ ، مذہب  اور  عدل و انصاف کو   بڑے خوبصورت انداز سے اجاگر کیا گیا تھا۔یہ ڈرامہ  جس معصومانہ  ، پاک ، صاف انداز میں پیش کیا جانا  تھا  تو ہم نے سوچا کہ اگر ہم اس ڈرامے میں  اپنی روح کو سمو دیں تو یہ ڈرامہ لازمی طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور اس مقبولیت حاصل ہوگی لیکن دنیا بھر میں اسے  اتنی مقبولیت حاصل ہوگی اس بارے میں کبھی سوچا بھی نہ تھا۔  

اس ڈرامے کو صرف عالمِ اسلام ہی میں پذیرائی حاصل نہ ہوئی بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے  والے افراد نے بھی گہری دلچسپی  لی۔ جنوبی امریکہ کے ممالک   نے بھی اس میں گہری دلچسپی لی۔علاقہ ازیں یورپی ممالک برطانیہ  اور دیگر ممالک  میں بھی  اس کے چرچے رہے۔  

میں  ایک بار پھر بڑے واضع طریقے سے آپ کو بتادوں اس ڈرامے کو دنیا بھر میں اتنی زیادہ مقبولیت حاصل ہوگی میں نے کبھی وہم و گمان بھی نہیں کیا تھا۔  البتہ  ترکی میں اس کی مقبولیت  پر پختہ یقین تھا تاہم  دنیا بھر  میں اس کی کامیابی ہمارے لیے حیران کن  تھی۔

 

فرقان          پاکستان میں آپکی بہت بڑی فالوونگ ہو گئی ہے یہاں تک کہ پاکستانی سیاست دان یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ انگین  آلتان اگر الیکشن میں کھڑا ہوگیا تو لازمی جیت جائےگا۔   اس  بارے میں  آپ کیا کہیں گے؟

 

انگین             یہ آپ لوگوں کی ذرہ نوازی ہے۔میں آپ سب کو مشکور ہوں جنہوں نے اتنی محبت  ہم پر نچھاور کی ہے۔  اتنی محبت سے چاہا جانا بھی  ایک بہت ہی خوبصورت  عمل ہے۔

پاکستان ہمارا برادر  اور دوست ملک ہے۔ہم نے اپنا بچپن ، پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کے جذبات لے اظہار میں گزارا ہے۔ ہم اسی برادر ملک کی محبت  اور چاہت ہی میں پلے بڑھے ہیں۔ میں اس سے بہت  پہلے ایک فلم میں حصہ لے چکا ہوں ۔  یہ ایک جنگی فلم تھی  فلم کا نام  تھا" انا  دولو  کارتال" ۔ اس فلم میں حصہ لینے کے لیے  پاکستان سے  پائلٹ  آئے تھے۔ ہم ان کے ساتھ بھی بڑے اچھے طریقے سے گھل مل  گئے تھے۔ یہ سب کچھ  پاکستان کے ساتھ  ہم ترکوں کی محبت کی وجہ سے تھا ایک برادر ملک  ہونے کے ناتے تھا۔

اس طرح اپنے ایک برادر ملک پاکستان سے اس قدر محبت کے اظہار  نے مجھے بڑا جذباتی بنادیا ہے۔ میں ویسے ہی  پاکستان کا بہت بڑا مداح ہوں۔

لیکن میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ سیاست،  سیاست دانوں کا کام ہے اور  میں ایک داکار  ہوں ہو اور میرا کام اداکاری ہے۔ سیاست میں حصہ لینے کا کام  پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔

 

فرقان              سب سے اہم سوال جو لوگ جاننا چاہتا ہے کہ یہ ایک سحر انگیز ڈرامہ ہے، ارطغرل  کی بات                        چیت، لڑنے سارے اسٹائل یہاں تک کہ ہاتھ کھول کر دعا مانگنے تک کا اسٹائل کاپی                                    کرلیاگیاہے،مگر لوگ یہ جاننا چاہتے ہی کہ اُن کے ہیرو کی زندگی پر اِس ڈرامے نے کیا اثر                          ڈالا؟

 

انگین            کئی بار  مجھ سے اسی قسم کے سوالات کیے جاتے ہیں۔

لیکن میں آپ کو یہ  بتا دو ں میرے میں کوئی زیادہ فرق نہیں آیا ہے۔  

میں اپنی ذاتی زندگی میں بھی عدل و انصاف کا خیال رکھتا ہوں اور میری  پوری  کوشش ہوتی ہے کہ کسی کا دل  نہ دکھاوں کسی کا دل نہ توڑوں ۔ دراصل میں ایک  ہیومنسٹ  ہوں ۔میں اپنی زندگی میں ہمیشہ ہی انسانوں کو  ترجیح دیتا ہوں اور میں جو کام کرتا ہوں اس کیلئے  بھی ایسا انسان ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ ہم اپنے انسانوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان سب   کے دکھ  و درد میں شریک ہوتا ہوں ، ان کے درد کو اپنے دل میں محسوس کرتا ہوں اورخصوصی کوش کرتا ہوں کہ کسی  ناراض نہ  کروں۔

میں آپ کو یہ بتا دو ں کہ اس ڈرامے کے بعد میں نے کوئی نئی زندگی شروع کی  ہے  یا میری زندگی  تبدیل  ہو گئی ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ہاں البتہ  یہ بات صاف عیاں ہے کہ  اس دور کے انسان  بڑے پاک صاف، معصوم، مخلص  اور   نیک خیالات  کے مالک تھے ۔ یہ سب کچھ میں نے  اس دور کے انسان  کو دیکھتے ہوئے محسوس کیا ہے۔ موجودہ دور کے  انسان انتہائی  بناوٹی  ہیں  اس دور کی طرح کے معصوم  اور نیک خیالات کے مالک نہیں ہیں۔  

بدقسمتی سے  موجودہ  دور میں  انسانوں  نے  اپنے ہی  معاشرے  میں رہتے ہوئے  اس میں گند ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔  

موجودہ دور کے انسان  میں بھی  معصومیت، شفافیت، اخلاص دیکھنا چاہتا ہوں  لیکن بد قسمتی سے اب ایسا دکھائی نہیں دیتا   ۔ اب ہم سادہ،  پاک صاف  اور غیر بناوٹی  زندگی گزارنے سے قاصر ہیں اور دوسروں کے دکھ درد کو کم ہی محسوس کرتے ہیں ۔

ہاں اگر آپ یہ پوچھ  رہے ہیں کہ  میں اس دور کے  قدرتی  اور غیر  بناوٹی   دور کو مس کرتے ہیں تو   کہوں گا لازمی طور پر  میں ان خصوصیات کو مس کرتا ہوں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی بتا دوں  کہ  میری زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔  یعنی اس   ڈرامے سے پہلے جیسی میری زندگی تھی  بالکل  اسی  طرح یہ زندگی  اب بھی جاری و ساری ہے۔  

 

فرقان           تیسرے سیزن میں دوان الپ کی شہادت، اور چوتھے سیزن میں حلیمہ کی موت پر شدت غم کے مناظر میں آپ کو سب سے زیادہ مشکل یا محنت کس پر کرنی پڑی ؟دیکھنے والے ناظرین تو رومال اور ٹشو آنکھ سے ہٹا ہی نہیں پائے ، سیٹ پر آپ نے یہ سب اتنے بھرپور طریقے سے کیسے انجام دیا؟

 

انگین            جی ہاں آپ نے صحیح فرمایا یہ دونوں سین میرے لیے بھی بڑے دردناک  سین تھے دونوں مناظر  بہنے والے  زیادہ تر آنسو میرے اصلی آنسو تھے۔  

کیونکہ ان آنسوؤں کے پیچھے میرا اخلاص  اور میری محبت چھلک رہی تھی ، ان دردناک  مناظر  کی عکس بندی کے دوران میں نے کوئی ایکٹنگ نہیں کی تھی  بلکہ حقیقی رنگ پیش کیا تھا۔  

کیونکہ  اگر آپ اپنے ساتھی کے ساتھ چار سال گزار چکے ہوں اور وہ آپ سے الگ ہو رہا ہو تو تو لازمی طور پر آپ کی زندگی اور آپ کے جذبات  متاثر ہوں گے ۔ کیونکہ  ان دونوں ساتھیوں کو  آئیندہ آپ سیٹ پر نہیں دیکھ سکیں گے ۔ اس لیے مجھے ان کی کمی شدت سے محسوس  ہونا شروع ہوگئی تھی،  خاص طور پر ارطغرل اور  حلیمہ درمیان سچا ، کھرا  ، پاک صاف  عشق  نے مجھے ہی نہیں  بلکہ سب کو متاثر کیا تھا۔

اسی لیے میں نے یہ کردار اپنے اندر محسوس کرتے ہوئے اور اس سچی محبت میں کھوتے ہوئے ادا کیا۔

اس سین میں ارطغرل کی شریک حیات حلیمہ  کا ہمیشہ کے لیے سین سے نکل جانا  ارطغرل کی بربادی کے معنوں میں آتا تھا۔ اسی لیے اس درد کو محسوس کرتے ہوئےاور اپنے اوپر اسے طاری کرتے ہوئے  ادا کیا۔

حلیمہ جس کا نام اسراع  ہے میری زندگی میں  بھی میری بڑی اچھی دوست ہے اور اس کے بعد اسکے ساتھ اس سیٹ پر نہ ہونے  اور ارطغرل کے گھر میں اس کی جگہ نہ ہونے  اور ہمیشہ کے لیے اس سے دور چلے جانے کی وجہ سے ڈرامے  نے نیا موڑ اختیار  کرلیا۔  یہ بالکل ڈحیح ہے وہ کردار میں نے بڑے مشکل  طریقے سے دکھی دل کے ساتھ ادا کیا۔  

جہاں تک دوان  آلپ ( روشن )  کا  تعلق ہے اگرچہ وہ میری ماں کا  بیٹا نہیں ہے لیکن میں نے اسے اپنا بھائی ہی سمجھا ہے  ۔ اس کے ساتھ بڑے قریبی مراسم  تھی ہماری بڑی پکی دوستی تھی جو اب بھی جاری ہے۔  میرے قریبی دوستوں میں ترگت  اور بامسی بھی ہے یہ سب میرے قریبی دوست ہیں اور ان سب کے ساتھ بالکل اسی طرح یہ تعلقات قائم ہیں جیسے ڈرامے میں قائم تھے۔

جب دوان آلپ(روشن) کا آخری سین فلمایا جا رہا تھا تو ہم واقعی ہی صحیح معنوں میں سیٹ پر  اور سیٹ سے باہر   یعنی کیمرے کے  پیچھے بھی رو رہے تھے۔  رہے تھے۔

جیسا کہ آپ نے کہا کہ دونوں سین  واقعی بڑے درد ناک  سین تھے بالکل صحیح کہاواقعی ہی یہ ڈرامے کے بہت دردناک سین تھے۔

 

فرقان           ڈائریکٹر و مصنف کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟   

 

 

انگین            اس ڈرامے کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے بغیر ڈرامہ ویسے ہی مکمل نہیں ہو پاتا۔ ویسے بھی اس ڈرامے کے ڈائریکٹر  بڑے زبردست انسان ہیں  بڑی معلومات کے مالک ہیں ۔ ہر چیز ان کی دسترس میں ہے۔  

وہ ڈرامے کی دنیا کے بارے میں بڑی معلومات رکھتے ہیں۔ان کو اس چیز کا بہت اچھا نالج ہے کہ ڈرامے کو کس طرح پیش کیا جاتا ہےبلکہ یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا وہ  ڈرامے کے ماہر انسان ہیں۔  ان کے ساتھ میری بڑی پرانی دوستی چلی آرہی ہے۔ میں  نے ان کے ساتھ اپنی دوستی  اور ان پر مکمل اعتماد اور بھروسے ہی کی وجہ سے  اس ڈرامے میں حصہ لینے کی حامی بھری تھی۔  اگر یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ انہوں نے  اس  ڈرامے کو ہماری توقعات  سے بھی بھر کر بہت زبردست طریقے اسے منظم کیا۔

دراصل اس قسم کا کام عام طور پر ڈائریکٹر ہی کرتا ہے  اور اس کے بعد  اداکاروں اور فنکاروں  کا کام ہوتا ہے وہ اس ڈرامے کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔

اگر ڈائریکٹر  اعتماد اور بھروسے کی فضا قائم نہ کرسکے تو  پھر جان  لیجیے  وہ ڈرامہ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔  دیکھا جائے تو تو ہم بڑے خوش قسمت  انسان ہیں  ہمیں  متین صاحب جیسے ڈائریکٹر کا ساتھ حاصل ہوا ہے جنہیں اپنے کام پر مکمل گرفت  حاصل ہے۔وہ ڈرامے کی دنیا کو کس طرح تشکیل دیتے اس فن کے ماہر ہیں۔

اسی لیے اس ڈرامے میں انہوں نے وہ کچھ ہم سے کروانے میں  کامیابی حاصل کی جسے وہ اپنے اندر محسو س کررہے تھے اور ہم نے بھی  ان مناظر کو اپنے اندر محسوس کرتے ہوئے انہیں ادا کیا۔  یعنی ہم یہ  کہہ سکتے ہیں کہ  انہوں نے اس ڈرامے میں کرداروں کی صلاحیتوں  کے مطابق تمام اداکاروں  کو  ایک جگہ یکجا کرنے میں کامیابی حاصل کی اور یہ ہماری خوش قسمتی کا باعث بھی بنا  اور اسی وجہ   سے یہ ڈرامہ کامیاب  بھی ثابت ہوا ۔ یہ سب کچھ  انسان زندگی میں بڑی آسانی سے حاصل ہونے والی چیزیں نہیں  ہیں۔اچھی ٹیم  اور اچھا ٹیم ورک ہمیشہ ہی آپ کو نصیب نہیں ہوتا ہے۔

 

 

فرقان           کتنے ممالک کا سفر کیا ہے؟ پاکستان کے لیے کیا پلان ہے؟ پاکستان کے عوام آپ کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں  گے؟

 

انگین            پاکستانیوں کی یہ محبت ایک برادر اور دوست  ملک ہونے کی وجہ سے ہے،  سینٹرل ایشیا ممالک میں بھی اس ڈرامے کو  بے حد پسند کیا  لیکن پاکستان مِن اس ڈرامے نے ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کردیے۔

عرب ممالک میں بھی اسے بڑا پسند کیا گیا ۔  میرا خیال ہے کہ اس کی بڑی وجہ  ہمارا  مشترکہ  مذہب ہے اور اسی وجہ سے  ان  تمام ممالک  میں  اس ڈرامے کو بے حد پسند کیا گیا ۔پاکستان اور ترکی  ویسے بھی  ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں  اور  دونوں نے ایک جیسی ثقافتی اقدار اور روایات  کے مالک  ہیں۔ ہم  اپنی روزمرہ کی  زندگی میں بھی دیکھتے ہیں کہ  ان مشترکہ  اقدار ہی کی  بدلوت پاکستان کے عوام نے اس ڈرامے میں  گہری دلچسپی  لی ہے اور ہم بھی پاکستانیوں کی اس محبت اور  چاہت کو اپنے دلوں کے اندر اندر محسوس کرتے ہیں  اور اسے اپنی زندگی کا ایک حصہ بنائے ہوئے ہیں۔

 

فرقان          پاکستان کی جانب سے اگر آپ کو کسی ڈرامے یا فلم میں کام کرنے کی آفر آئے تو کیا آپ اس میں کام کرنا پسند فرمائیں گے؟

 

انگین            جی ہاں، بڑی خوشی سے۔۔ کیوں نہ کام کروں،  میں پہلے ڈرامے کا سینریو اور کہانی دیکھوں گا  اور  اگر ڈرامے کا سینریو  Scenario  اور کہانی  میری  خواہشات  کے مطابق ہوگا تو   لازمی طور پر میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھوں گااور مجھے اس ڈرامے یا فلم میں کام کرتے ہوئے خوشی  محسوس ہوگی اور اس طرح پاکستانی عوام کی محبت کا قرضہ بھی چکا دوں گا۔  

 

فرقان          پاکستان کے کروڑوں عوام جو آپ کے مداح ہیں۔ کیا پیغام دینا پسند فرمائیں گے؟

 

پاکستان سے اتنی گہری محبت، لگاو اور چاہت ملے گی  میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا  یہ سب میرے لیے فخر کا باعث ہے۔ میں اس محبت اور چاہت کودر  حقیقت دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا سے جو پیغامات موصول  ہو رہے ہی،  الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا  میں جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے ان سب باتوں سے اچھی طرح آگاہ ہوں  ۔  یہ سب کچھ ہم تک پہنچ جاتا ہے ۔  میں سب سے پہلے پہلے ان کی اس محبت  اور چاہت کا مشکور ہوں  اور  انشاللہ جلد ہی  پاکستان پہنچ کر پاکستانی عوام کے رو برو ان سے اپنی محبت کا بھی اظہار کرنا چاہتا ہوں ۔میں حالات کے بہتر ہونے پر جلد از جلد  پاکستان آنا چاہتا ہوں تاکہ پاکستانی عوام کو اپنے گلے لگا کر اپنی محبت  اور چاہت کا اظہار کرسکوں ۔  چاہت  اور محبت کی یہ آگ دونوں طرف  سے لگی ہوئی ہے اور پاکستان پہنچ کر اس محبت  کا خود اظہار کرنا چاہتا ہوں۔  میں ایک بار پھر آپ  اور پاکستانی عوام کا  مشکور  ہوں جنہوں  نے اپنے محبت کے دروازے ہم پر کھول رکھے ہیں۔  

 

 



متعللقہ خبریں