ہم ترکی سے مدد لینے پر مجبور تھے، لیبیا ئی حکومتی اعلی کونسل

لیبیا کو  سن 2013 سے ابتک متحدہ عرب امارات سمیر مصر اور دیگر ممالک کی فوجی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا

1463140
ہم ترکی سے مدد لینے پر مجبور تھے، لیبیا ئی حکومتی اعلی کونسل

لیبیا ئی حکومتی اعلی  کونسل کے صدر خالد الا مشری  کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں غیر قانونی  ملیشیا قوتوں کے حملوں کو پسپا کرنے  کے لیے ہم نے ترکی کے ایک ساتھ ایک واضح اور قطعی معاہدہ کیا ہے۔

مراکشی وزیر ِ خارجہ ناصر بوریطہ  کے ساتھ رباط میں منعقدہ  مذاکرات کے بعد  مشترکہ پریس کانفرس  سے خطاب کرنے والے مشری نے بتایا کہ’’قومی مطابقت حکومت نے  خفتر   سے 6 تا 10 ممالک کے تعاون کے  بعد ترکی  سے مدد طلب کی۔ ان  تمام تر ممالک کے سامنے اپنی  جائز حیثیت کا دفاع کرنے کی ہم میں سکت نہیں تھی۔‘‘

مشری نے بتایا کہ لیبیا کو  سن 2013 سے ابتک متحدہ عرب امارات سمیر مصر اور دیگر ممالک کی فوجی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا ہے یہ صورتحال بین الاقوامی فیصلوں کے برخلاف ہے۔  جب خفتر نے متعدد ممالک سے مدد طلب کرتے  ہوئے طرابلس کا محاصرہ کر لیا تو پھر ہمارے پاس  ترکی سے مدد طلب کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ باقی نہ بچا۔  یہ عمل سرعت سے طے پانے والے معاہدوں کے ساتھ سر انجام پایا۔  خود خفتر کی مدد کرتے وقت  ترکی کی تسلیم شدہ حکومت سے تعاون کرنے  کی خواہش نہ رکھنے  والے ممالک نے ترکی کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا۔

ترکی اور لیبیا کے مابین 27 نومبر 2019 کو ’’سلامتی و فوجی تعاون مطابقت  میمورنڈم‘‘  سمیت دونوں ممالک کے عالمی قوانین کی رو سے  ایک دوسرے سے تعاون  معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔



متعللقہ خبریں