ترکی اور برطانیہ کے مابین صنعتی و زرعی مصنوعات کے لین دین پر اہم معاہدہ

بریگزٹ کے بعد کے دور میں دو طرفہ تجارتی حجم  میں اضافے کا فیصلہ

1452749
ترکی اور برطانیہ کے مابین صنعتی و زرعی مصنوعات کے لین دین پر اہم معاہدہ

وزیر ِ خارجہ میولود چاوش اولو  کا کہنا ہے کہ  ترکی ، برطانیہ کے ساتھ صنعتی و زرعی مصنوعات اور خدمات پر محیط آزاد تجارتی  معاہدہ طے کرنے کے قریب ہے۔

چاوش اولو نے بروز بدھ لندن  کے دورے کے دوران فنانشیل ٹائمز سے انٹرویو میں دونوں فریقین کے مابین اصولی  طور پر معاہدے   کے حوالے سے کسی قسم کا نظریاتی اختلاف موجود نہ ہونے  تاہم بعض تیکنیکی معاملات  کو حتمی شکل دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنے جائزے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم  آزاد تجارتی معاہدے کو نتیجہ خیزبنانے‘‘ کے قریب پہنچ چکے ہیں ، باہمی تجارتی حجم کا 95 فیصد صنعتی مصنوعات پر مشتمل ہے اور اس معاملے پر مطابقت بھی قائم ہوئی ہے، باقی ماندہ 5 فیصد زرعی مصنوعات اور سروسسز کو تشکیل دیتا ہے۔ ‘‘

برطانیہ کے ترکی کے ’’سٹریٹیجک شراکت دار ہونے ‘‘ پر زور دینے والے چاوش اولو  کا کہنا  ہے کہ بریگزٹ کے بعد کے دور میں دو طرفہ تجارتی حجم  میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس دائرہ کار میں 20 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آزاد تجارتی معاہدے سمیت ترک شہریوں کو برطانیہ میں کاروبار شروع کرنے کا موقع فراہم کرنے والے سن 1963  کے انقرہ معاہدے سے مشابہہ ایک دوسرے معاہدے پر بھی مذاکرات کیے گئے ہیں۔

 

 



متعللقہ خبریں