بیں الاقوامی ادارے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئے : ڈارتی ترجمان

انہوں نے کہا کہ ترکی میں ، صحت کے اقدامات ، نظم عامہ ، فوڈ انڈسٹری ، ٹرانسپورٹ اور کوویڈ ۔19 پھیلنے کے بارے میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے  ملک میں  سرمایہ کاری کے عمل میں مثبت نتائج  حاصل  ہوئے ہیں

1419235
بیں  الاقوامی ادارے  کورونا وائرس کے خلاف  جنگ میں زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئے : ڈارتی ترجمان

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا کہ بین الاقوامی تنظیمیں ، جو نئی قسم کی کورونا وائرس (کوویڈ 19) کے خلاف جنگ میں ناکافی ہیں ، ان سے اب مزید پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

ابراہیم  قالن نے یوٹیوب پر براہ راست نشر کیے  جانے والے پروگرام میں اپنا جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی میں ، صحت کے اقدامات ، نظم عامہ ، فوڈ انڈسٹری ، ٹرانسپورٹ اور کوویڈ ۔19 پھیلنے کے بارے میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے  ملک میں  سرمایہ کاری کے عمل میں مثبت نتائج  حاصل  ہوئے ہیں۔

اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ یورپ میں وبا کے دور نے یورپی یونین (EU) کے خیال اور یکجہتی کی روح کو کمزور کیا ہے ، قالن  نے کہا کہ یورپی یونین کے خیال کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے اور یورپی ممالک کے مابین مباحثے میں تیزی آئی ہے جو اس وبا کے لئے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل میں اقوام متحدہ (یو این) پر پڑنے والے اثرات ،  قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ عالمی تعاون تنظیم (WHO) ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کتنا موثر تھا؟ جی 20 کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ابراہیم قالن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کویوڈ ۔19 کی "چینی وائرس" کی تعریف امریکہ اور چین کے مابین دیرینہ تجارتی جنگوں کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ  کوویڈ ۔19 نے بھی دنیا میں نسل پرستی کو ہوا دی ، انہوں نے کہا کہ خاص طور پر امریکہ میں اسلحہ کی فروخت میں بہت تیزی ہے اور بعض نسلی گروہوں کے خلاف کچھ جگہوں پر نسل پرست مباحثے اور رویوں کو فروغ دیا گیا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں پر وائرس کا الزام عائد کیا گیا ہے ، اور 2 فرانسیسی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ "افریقہ میں قطرے پلانے کے تجربات کروائے جائیں" اور اس بات پر زور دیا کہ نسل پرستانہ مباحثوں اور طرز عمل سے پرہیز کیا جانا چاہئے۔



متعللقہ خبریں