کووڈ۔ 19 کے پنجے سے نجات کے لیے نبردِ آزما برطانوی وزیر اعظم کو ترک صدر کا خصوصی مراسلہ

صدر ایردوان: اس دائرہ کار میں آپ کی حکومت اور نیشنل ہیلتھ سسٹم  کے ملازمین اور اس درد ناک ماحول میں نبردِآزما تمام  تر ملازمین کی کامیابی کا دعا گو ہوں

1395943
کووڈ۔ 19 کے پنجے سے نجات کے لیے نبردِ آزما برطانوی وزیر اعظم کو  ترک صدر کا خصوصی مراسلہ

صدر رجب طیب ایردوان نے  مہلک وائرس کے خلاف نبردِ آزما برطانوی وزیر اعظم  بورس جانسن کی فی الفور صحتیابی  کا پیغام دیا ہے۔

صدر ایردوان  نے ترکی  کی جانب سے طبی سازو سامان روانہ کیے جانے والے برطانیہ کے وزیر اعظم کو ایک خط بھیجا، جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

جناب ِ محترم ، عزیز دوست،  میں اولین طور پر میں آپ کے  جلد ازجلد صحتیاب ہونے کی دیرینہ تمنا کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے ملک کے لیے ایک اہم سٹریٹیجک اور طاقتور اتحادی  و دوست ملک سلطنتِ برطانیہ  ،پوری دنیا کو اپنے زیر ِ تسلط لینے والی مہلک وبا سے  سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک  میں شامل ہے۔  ان کٹھن ایام میں  اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کے اہل خانہ،عزیز و اقارب سمیت انگریز عوام  سے اپنے ملک اور قوم کے نام  پر اظہارِ تعزیت کرتا ہوں۔

ہم برطانیہ کے وائرس کے پیش نظر اقدامات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ اس دائرہ کار میں آپ کی حکومت اور نیشنل ہیلتھ سسٹم  کے ملازمین اور اس درد ناک ماحول میں نبردِآزما تمام  تر ملازمین کی کامیابی کا دعا گو ہوں ، اور  میری دیرینہ تمنا ہے کہ برطانیہ اس المیہ سے ممکنہ حد تک کم سے کم سطح پر متاثر ہو گا۔

تقریباً ہر شعبے میں شاندار سطح پر استوار  باہمی تعلقات کے حامل  اور ترکی کے ایک پکے اتحادی شراکت داروں میں سے ایک سلطنتِ متحدہ  نے ہمارے ملک کے ساتھ تعاون کا مختلف طریقوں سے بار ہا مظاہرہ کیا ہے۔  جس کی تازہ مثال  گزشتہ ماہ  اس ملک سے اعلی سطحی حکام کے دورے  ہیں۔

ہم نے بھی کٹھن حالات سے دو چار دوست و اتحادی ملک  سے باہمی  تعاون کے اظہار کے طور پر طبی امدادی سازو سامان   روانہ کیا ہے۔

میں اس مہلک وائرس کے خلاف نبردِ آزما ذاتِ اعلی کی فی الفور شفا یابی کا دعاگو ہوں ، عالمی  سطح پر در پیش اس امتحان کے بعد   دوطرفہ تعلقات  کو مزید آگے بڑھانے اور بریگزٹ کے بعد کے دور میں  باہمی تعلقات کو  ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے  کے زیر مقصد پر عزم اقدامات اٹھانے کے زیر ِمقصد  ہمارے ملک میں  آپ کی میزبانی  کی خواہش پر زور  دینا چاہتا ہوں۔

 



متعللقہ خبریں