شام میں انتظامیہ کے خلاف جدوجہد کرنے والے دہشت گرد نہیں شامی عوام ہے: ایردوان

جو ہمیں یہ کہہ رہے ہیں کہ " وہ شام کی زمین ہے آپ وہاں کیسے داخل ہو رہے ہیں " ان کے لئے ہمارا جواب یہ ہے کہ ترک فوجیوں کی شام میں موجودگی آدانا سمجھوتے کے دائرہ کار میں ہے: صدر رجب طیب ایردوان

1360239
شام میں انتظامیہ کے خلاف جدوجہد کرنے والے دہشت گرد نہیں شامی عوام ہے: ایردوان

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ جو ہمیں یہ کہہ رہے ہیں کہ " وہ شام کی زمین ہے آپ وہاں کیسے داخل ہو رہے ہیں " ان کے لئے ہمارا جواب یہ ہے کہ ترک فوجیوں کی شام میں موجودگی آدانا سمجھوتے کے دائرہ کار میں ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ شام میں ترک فوجی مانیٹرنگ چوکیوں کا قیام بھی سوچی سمجھوتے کی بنیادوں پر عمل میں آیا ہے۔

صدر ایردوان نے اپنے دورہ پاکستان سے واپسی پر طیارے میں اخباری نمائندوں کے سوالات کے جواب دئیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اسد انتظامیہ نے ادلب میں ترکی کی مانیٹرنگ چوکیوں کا محاصرہ کرنا شروع کر دیا ہے جس کے مقابل ہمارا خاموش رہنا ممکن نہیں  لہٰذا ہم ضروری کاروائیاں کر رہے ہیں۔

صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ہم نے ایک ہفتے کے دوران علاقے میں انتظامیہ کے دو ہیلی کاپٹر گرائے ہیں اور انہیں بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ" انتظامیہ کے خلاف جدوجہد کرنے والے دہشت گرد نہیں شام کے اپنے عوام وہاں کے مقامی رہائشی ہیں۔ یہ انسان اپنی زمین اپنے گھروں کی حفاظت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہاں عوام پر طیاروں کے ذریعے ہیلی کاپٹروں کی ذریعے بم گرائے جا رہے ہیں لیکن اس سب کے مقابل مغرب سے کوئی ہلکی سے آواز بھی بلند نہیں ہو رہی"۔

صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ادلب سے ایک لاکھ  کے قریب انسان پناہ کے لئے ترکی کی سرحد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

لیبیا کی صورتحال پر روس کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ" حفتر کے پاس 2 ہزار 500 کے قریب کرائے کے روسی فوجی موجود ہیں۔ ان کرائے کے فوجیوں کی روس کے وزیر دفاع شوئے گوئے اور دیگر سرکاری حکام کے ساتھ اجلاس کی تصاویر موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا لیبیا سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ  اس وقت روس  اعلیٰ سطح پر بذاتِ خود لیبیا کی جنگ کا نظم و نسق چلا رہا ہے"۔



متعللقہ خبریں