شامی عوام کی آزادی اور نجات کو ترکی کی بقا اور سلامتی سے الگ نہیں رکھا جائے گا: آلتن

حملوں کا مقصد بے گھر کئے گئے مہاجرین کو ترکی کی سرحد پر جمع کرنا اور سہل قبضے کے لئے علاقے کو انسانوں سے خالی کرنا ہے: فخر الدین آلتن

شامی عوام کی آزادی اور نجات کو ترکی کی بقا اور سلامتی سے الگ نہیں رکھا جائے گا: آلتن

ترکی کے صدارتی محکمہ مواصلات کے سربراہ فخر الدین آلتن  نے کہا ہے کہ سوچی سمجھوتے کے دائرہ کار میں رواں مہینے کے آخر تک ترکی انتظامی فورسز کو ادلب میں ترک مانیٹرنگ چوکیوں کی حدود سے باہر نکالنے کے بارے میں پُرعزم ہے۔

ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں آلتن نے کہا ہے کہ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسد انتظامیہ شہریوں کو ہدف بنا کر قتل عام کر رہی ہے لیکن حقوقِ انسانی کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرنے والے اس کے مقابل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس صورتحال پر محض تشویش کا اظہار کر دینا ہی کافی نہیں ہے لہٰذا ترکی بھی ہاتھ پہ ہاتھ رکھے اس قتل عام  کو دیکھتے رہنے پر اکتفا نہیں کر سکتا۔

آلتن نے کہا ہے کہ شہریوں پر حملوں کا مقصد بے گھر کئے گئے مہاجرین کو ترکی کی سرحد پر جمع کرنا اور آسانی کے ساتھ  قبضہ کر سکنے کے لئے علاقے کو انسانوں سے خالی کرنا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ " ہم ،لاکھوں مہاجرین کے ہماری سرحدوں پر ہجوم کی نہ تو اجازت دے سکتے ہیں اور نہ ہی دیں گے۔ اس موضوع پر طے شدہ سمجھوتوں کا پاس رکھتے ہوئے ہم نے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ہم آہنگ شکل میں کاروائی کرنے کے معاملے میں نہایت صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن سیف زون  اعلان کئے گئے علاقوں کے بارے میں سمجھوتے کی شرائط کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انتظامی فوسرز اب ہمارے فوجیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

فخر الدین آلتن نے کہا ہے کہ ہم سوچی سمجھوتے کے دائرہ کار میں ماہِ فروری کے آخر تک انتظامی فورسز کو ادلب کی مانیٹرنگ چوکیوں سے باہر نکالنے کے بارے میں پُرعزم ہیں اور اسے یقینی بنانے کے لئے ہم اپنی فضائیہ اور برّی فوج کو استعمال کریں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ  ہم کسی بھی حملے پر تحمل کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔  جیسا کہ ہمارے صدر رجب طیب ایردوان نے بھی کھلے الفاظ میں  کہا ہے کہ انتظامی فورسز کی ترک فوج  کے خلاف  معمولی سی کاروائی کا ہم بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔

صدارتی محکمہ مواصلات کے سربراہ فخر الدین آلتن نے کہا ہے کہ شامی عوام کی آزادی اور نجات کو ترکی کی بقا اور قومی سلامتی کے مسئلے سے الگ نہیں رکھا جائے گا۔



متعللقہ خبریں