فائر بندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہر طرح کی تدبیر استعمال کی جائے گی: آقار

تقریباً ایک لاکھ شامی اپنے گھروں سے اور وطن سے فرار ہو کر سخت سردی کے موسم میں اور نہایت لاچارگی کے عالم میں انتظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں کی طرف نہیں ترکی  کی طرف بھاگ رہے ہیں: وزیر دفاع حلوصی آقار

فائر بندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہر طرح کی تدبیر استعمال کی جائے گی: آقار

ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آقار نے کہا ہے کہ شام کے شہر ادلب میں فائر  بندی کے قیام کے لئے  اور اس فائر بندی کو پائیدار بنانے کے لئے اضافی یونٹوں کی مدد سے علاقے کو کنٹرول کیا جائے گا۔

آقار نے کہا ہے کہ متعصبوں سمیت فائر بندی  پر عمل نہ کرنے والے ہر فریق کے خلاف ہر طرح کی تدبیر کا استعمال کیا جائے گا۔

وزیر دفاع حلوسی آقار نیٹو کے وزرائے دفاع  اجلاس میں شرکت کے لئے بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اخباری نمائندوں کے سوالات کے جواب دئیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اجلاس کی مرکزی نشست میں ہمیں  ،نیٹو حکام اور اتحادی ممالک کے وزرائے دفاع  کو ادلب کے موضوع پر ترکی کے موقف سے آگاہ کرنے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ ماہ اکتوبر میں منعقدہ نیٹو وزرائے خارجہ اجلاس  کے بعد سے اب تک ادلب کی صورتحال کافی حد تک منفی شکل اختیار کر گئی ہے۔4 لاکھ شامیوں پر مشتمل اس علاقے میں ترکی کی حیثیت ضامن ممالک میں سے ایک کی ہے۔

آقار نے کہا ہے کہ ہم فائر بندی کے قیام کے لئے ہجرت  اور خونریزی کے سدباب   کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔  انتظامیہ اس وقت تک چار دفعہ فائر بندی کا اعلان کرنے کے باوجود فضائی اور زمینی حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ حملے تشدد میں بتدریج اضافہ کر رہے ہیں۔

آقار نے کہا ہے کہ انتظامیہ کے حملے تعصب  اور ہجرت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ تقریباً ایک لاکھ شامی اپنے گھروں سے اور وطن سے فرار ہو کر سخت سردی کے موسم میں اور نہایت لاچارگی کے عالم میں انتظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں کی طرف نہیں ترکی  کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ اس انسانی المیے پر دنیا کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

وزیر دفاع حلوصی آقار نے کہا ہے کہ فائر  بندی کے قیام اور اس فائر بندی کو پائیدار بنانے کے لئے ہم اضافی یونٹیں بھیج رہے ہیں ۔ ان یونٹوں کی مدد سے علاقے کو کنٹرول کیا جائے گا اور متعصب حلقوں سمیت جو بھی فائر بندی کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف ہر طرح کی تدبیر استعمال کی جائے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہماری اضافی مانیٹرنگ چوکیاں فیلڈ کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرنا جاری رکھیں گی۔ میں ایک دفعہ پھر اس پہلو پر زور دینا چاہتا ہوں کہ  ادلب میں ہماری فوجی موجودگی میں اضافے کا مقصد فائر بندی کو پائیدار بنانا، کسی بھی عنصر کی طرف سے حملے کے جواب میں ضروری قوت کا استعمال  کرنا اور حتمی فائر بندی کے لئے ہر طرح کی تدبیر  اختیار کرنا ہے۔



متعللقہ خبریں