ادلیب کی صورتِ حال غیر یقینی اور روسی وفد سے اس بارے میں ملاقات ہوگی: چاوش اولو

میولود چاوش اولو  نے ان خیالات کا اظہار   سلوواکیہ کے وزیر خارجہ میروسلاو لاجک کے ساتھ وزارت خارجہ کے سرکاری رہائش گاہ میں مشترکہ پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے کیا

ادلیب کی صورتِ حال غیر یقینی اور روسی وفد سے اس بارے میں ملاقات ہوگی: چاوش اولو

وزیر خارجوزیر خارجہ  میولود  چاوش اولو   نے کہا ہے کہ شام میں  ادلیب کی  صورتِ حال  ابھی تک غیر  یقینی ہے  اور اس سلسلے میں روس کا  ایک وفداس موضوع  سے متعلق بات چیت کرنے کی غرض سے کل ترکی تشریف لا رہا ہے۔

میولود چاوش اولو  نے ان خیالات کا اظہار   سلوواکیہ کے وزیر خارجہ میروسلاو لاجک کے ساتھ وزارت خارجہ کے سرکاری رہائش گاہ میں مشترکہ پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ شام کے ادلیب کے علاقے میں  سویلین کے خلاف  بشار الاسد انتظامیہ  کے  حملوں کی وجہ سے جو سنگین  صورتِ حال پیدا ہوئی ہےاس پر قابو پانے  اور حالات کی بہتری کے لیے  اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  بشار انتظامیہ  نے  3 فروری کو ترک فوجیوں پر حملہ کیا تھا  جس کے نتیجے میں   8 ترک   فوجی شہید ہوگئے تھے لیکن ہم نے بھی   اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے  اور ہم نے روس کو بھی اپنے غم و غصے سے  آگاہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان نے 2 روز قبل روسی صدر ولادیمیر پوتین  سے  ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔  جس میں  دونوں ممالک کے وفود  کے مذاکرات  کرنے کا فیصلہ کیا  گیا ہے اور کل روس کا ایک وفد مذاکرات کی غرض سے ترکی آرہا ہے اور اگر  محسوس ہوئی تو  دونوں ممالک کے سربراہ  بھی اس موضوع پر بات چیت کرنے کی غرض سے  یکجا ہو سکتے ہی ہیں ۔

انہوں نے یورپی پارلیمنٹ  میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کے دہشت گردوں کی میزبانی کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں منافقت سے آگاہی  کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔لیکن کچھ یوروپی یونین کے ممالک ایسا کرنے میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے ہیں۔  دہشت گرد تنظیم کے ریڈ بلیٹن سے مطلوبہ  افراد کو  یورپی یونین میں مدعو  کیے جانے کے عمل کی یہ ممالک کیسے وضاحت کریں گے؟  ماضی میں بھی ایسی ہی ملاقاتوں کا مشاہدہ ہم نے کیا ہے  ۔ اس بار انہوں نے ان ناموں کو فہرست  ہمیں نہیں دی ہے تاہم   ریڈ بلٹن سے مطلوبہ   دہشتگرد  یورپی یونین  کے ہال  موجود تھے۔  یورپی یونین   کی ان کاروائیوں  سے    یورپی یونین پر ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔



متعللقہ خبریں