یورپی یونین کو بکھرنے کا خطرہ لاحق ہے: عمر چیلک

اس وقت یونین کو داخلی انتشار  کا اور اپنے اندر سے ابھرنے والی انتہائی دائیں بازوں کی قوتوں جیسے خطرات کا سامنا ہے: عمر چیلک

1353547
یورپی یونین کو بکھرنے کا خطرہ لاحق ہے: عمر چیلک

ترکی کی حزب اقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی  کے ترجمان عمر چیلک نے کہا ہے کہ" یورپی یونین کو بکھرنے کا خطرہ لاحق ہے"۔

عمر چیلک نے پارٹی کے مرکزی دفتر میں انتظامی کمیٹی  کے اجلاس کے دوران منعقدہ پریس کانفرنس میں یورپی یونین کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس سے قبل یورپی یونین نے ہمیشہ روس اور چین کی طرف سے متوقع خطرات پر توجہ مرکوز رکھی ہے لیکن اس وقت یونین کو داخلی انتشار  کا اور اپنے اندر سے ابھرنے والی انتہائی دائیں بازوں کی قوتوں جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ اور حالیہ دنوں میں یورپی یونین کی طرف سے "ہم امریکہ  کے مقابل اپنے حقوق کا تحفظ کر رہے ہیں" جیسے  بیانات کے ساتھ ایک خارجہ خطرے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

عمر چیلک نے کہا ہے کہ "اس سب کے باوجود جو دکھائی دے رہا ہے وہ یہ کہ اب اصلاحات کئے بغیر ، بحرانوں کو مواقع میں تبدیل کئے بغیر یورپی یونین کو اپنے اتحاد  کے تحفظ میں نہایت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا"۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہاں کلیدی لفظ اصلاحات  ہیں۔ اصلاحات نہ کرنے کی وجہ سے یورپی یونین کو  اپنی جاذبیت سے اور اتحاد سے محروم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔

چیلک نے کہا ہے کہ یورپ کے داعش کے نام سے پہچانے جانے والے انتہائی دائیں بازو  کے مقابل ضروری تدابیر اختیار نہیں کی جا رہیں۔ ماضی میں صیہونیت دشمنی  یورپ کو تباہیوں کی طرف لے گئی تھی اور اب اس کی جگہ اسلام دشمنی کا رجحان چل نکلا ہے۔ اسلام دشمنی کو پھیلانے میں مصروف حلقوں کے خلاف ضروری تدابیر اختیار نہیں کی جا رہیں اور یہ سب چیزیں یورپی یونین کو اصلاحات سے عاری مفلوج ادارہ بنا  رہی ہیں۔

عمر چیلک نے کہا ہے کہ اس کے بعد کا کلیدی موضوع ترکی کا مسئلہ  ہے۔



متعللقہ خبریں