ترکی کا مقصد لیبیا اور شام میں امن و امان قائم کر کے بہتے خون کو روکنا ہے: آقار

ترکی کی کوششوں کا مقصد لیبیا اور شام میں سیاسی حل کے ذریعے امن و امان  قائم کر کے بہتے خون کو روکنا ہے: وزیر دفاع حلوصی آقار

ترکی کا مقصد لیبیا اور شام میں امن و امان قائم کر کے بہتے خون کو روکنا ہے: آقار

ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آقار نے کہا ہے کہ ترکی کی کوششوں کا مقصد لیبیا اور شام کے علاقے ادلب میں سیاسی حل کے ذریعے امن و امان  قائم کر کے بہتے خون کو روکنا ہے۔

دارالحکومت انقرہ میں ذرائع ابلاغ کے ساتھ ملاقات میں آقار نے لیبیا میں فائر بندی کا احتمال ختم ہونے سے متعلق بیانات کے بارے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ" ابھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ لیبیا میں فائر بندی کا احتمال نہیں رہا ابھی اس سے متعلق کاروائیاں جاری ہیں"۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت  لیبیا میں ہم روس کے صدر پوتن اور ان کی ٹیم کی کاروائیاں مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔ ہمارے مخاطب روسی ہیں ا ور لیبیا میں فائر بندی  ختم ہونے کے بارے میں بیانات کا فیلڈ میں کوئی متبادل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں متوقع لیبیا کانفرنس میں وسیع شرکت متوقع ہے،  شرکاء میں لیبیا کے فریق بھی شامل ہوں گے  بہت ممکن ہے کہ اس کانفرنس سے کوئی نتیجہ سامنے آ جائے۔

وزیر دفاع حلوصی آقار نے کہا ہے کہ تاخیر سے ہی کیوں نہ ہو برلن کانفرنس میں حفتر کے کسی نقطہ پر پہنچنے کی توقع ہے۔ ہم مسئلے کے سیاسی حل کے حامی ہیں اور اس کے لئے جلد از جلد فائر بندی کے اطلاق کے خواہش مند ہیں۔

شام کے علاقے ادلب میں بھی فائر بندی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے آقار نے کہا ہے کہ انتظامیہ علاقے میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم نے سکیورٹی زون کی تشکیل اور موسم سرما میں عوام کے وہاں قیام کے لئے روسیوں کے ساتھ مذاکرات کئے ہیں۔

وزیر دفاع حلوصی آقار نے کہا ہے کہ  ادلب  مانیٹرنگ چوکیوں سے ترکی کا انخلاء موضوع بحث نہیں ہے۔ ان چوکیوں کو کافی حد تک ایمونیشن اور ضروری سامان سے مضبوط بنایا گیا ہے ۔ اس معاملے میں مول تول نہیں ہو گا۔

ملک سے غیر ملکی فوجیوں کو نکالنے سے متعلق عراقی پارلیمنٹ کے فیصلے کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ سرکاری سطح پر ہمیں کوئی معلومات یا طلب موصول نہیں ہوئی۔



متعللقہ خبریں