لیبیا میں ہر چیز نہایت حساس اورنازک ہے: قالن

ہمیں یقین ہے کہ برلن میں متوقع لیبیا سربراہی کانفرنس سے قبل فائر بندی کے لئے ترکی کی کوششیں درپیش صورتحال اور جھڑپوں  کے خاتمے میں معاونت کریں گی: صدارتی ترجمان ابراہیم قالن

لیبیا میں ہر چیز نہایت حساس اورنازک ہے: قالن

ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ لیبیا میں ہر چیز نہایت حساس اورنازک ہے۔

سی این این انٹرنیشنل کی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے قالن نے لیبیا کی پیش رفتوں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بحران پر بھی اظہار خیال کیا۔

ترکی کی لیبیا پالیسی سے متعلق سوال کے جواب میں قالن نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ تعلقات پائے جاتے ہیں اور ہم شمالی افریقہ میں استحکام کو اہمیت دیتے ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوان اور روس کے صدر ولادی میر پوتن  کی طرف سے 8 جنوری کو کی گئی اپیل  سے لیبیا میں شروع ہونے والی فائر بندی کی یاد دہانی کرواتے ہوئے قالن نے کہا ہے کہ اس معاملے میں تفصیلات پر غور کرنے کی ضرورت ہے  ۔ حفتر  کی طرف سے فائر بندی کی خصوصی شرائط  پر غور کے لئے اضافی مہلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قالن نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ  کے لیبیا کے لئے نمائندہ خصوصی غسان سلامہ کی کوششوں کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ 19 جنوری کو برلن میں متوقع  لیبیا سربراہی  کانفرنس سے قبل فائر بندی کے لئے ترکی کی کوششیں درپیش صورتحال اور جھڑپوں  کے خاتمے میں معاونت کریں گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ " سچ تو یہ ہے کہ لیبیا میں صرف فائر بندی ہی نہیں سیاسی  عمل بھی، اقوام متحدہ مرحلہ بھی  غرض ہر معاملہ ہی نہایت حساس  اور نازک ہے۔  اس چیز کو قبول کرنا ضروری ہے کہ ہمیں ایک ہمہ جہتی صورتحال کا سامنا ہے ۔ ہم، بہت سے اور ایک دوسرے سے مختلف عناصروں، بین الاقوامی کرداروں ، حصہ داروں  اور متعدد دیگر عناصر کے درمیان اس جھڑپ کو ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے 3 جنوری کو امریکہ کے فضائی حملے میں ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی اور ہشدی شابی فوسز کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس  کی ہلاکت کے بعد علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بھی جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ترکی نے، علاقے کو تشدد اور تناو کی کسی نئی دلدل میں دھنسنے سے بچانے کے لئے امریکہ اور ایران سے رابطے کر کے کشیدگی کو کم کرنے کی اپیل کی ہے۔

قالن نے کہا ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عراق ، امریکہ اور ایران کے لئے میدان جنگ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس ملک میں دونوں فریقوں کی نائب مسلح فورسز موجود ہیں اور یہی مسئلہ کی اصلی جڑ ہے۔



متعللقہ خبریں