لیبیا میں فائر بندی ترکی کی کوششوں کا نتیجہ ہے: قالن

ترکی کے لیبیا کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور ترکی شمالی افریقہ میں سیاسی استحکام کو اہمیت دیتا ہے: ابراہیم قالن

لیبیا میں فائر بندی ترکی کی کوششوں کا نتیجہ ہے: قالن

ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ لیبیا میں جھڑپوں کے فریقین کے درمیان فائر بندی کا موضوع ایجنڈے پر آ گیا ہے اور یہ پیش رفت ترکی کی کوششوں کو نتیجہ ہے۔

سی این این انٹرنیشنل  ٹیلی ویژن کی نشریات میں لیبیا کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئےانہوں نے کہا ہے کہ ترکی کے لیبیا کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور ترکی شمالی افریقہ میں سیاسی استحکام کو اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ تشدد میں خاتمے کے لئے بین الاقوامی برادری  کا باہمی اتحاد  نہایت ضروری ہے اور  ترکی نے  اس معاملے میں بہت کوششیں کی ہیں۔

قالن نے کہا ہے کہ ترکی، وزیر اعظم فیض السراج کی زیر قیادت  اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ قومی مفاہمتی حکومت کے ساتھ  مل کر کام کر رہا ہے۔  ملک میں جاری تمام فوجی تشدد کا ذمہ دار  فریق  حفتر  ہے اور اوپر تلے متعدد سمجھوتوں کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ  ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور روس  کے صدر ولادی میر پوتن  کی طرف سے 8 جنوری کی اپیل  کے بعد لیبیا میں فائر بندی کا آغاز ہوا تاہم اس معاملے کی تفصیلات پر غور کی ضرورت ہے ۔ حفتر فریق نے فائر بندی کی خصوصی شرائط پر نظر ثانی کے لئے اضافی مہلت طلب کی ہے۔


ٹیگز: لیبیا

متعللقہ خبریں