ترکی نے لیبیا اپنے فوجی روانہ کردیے ہیں: صدر ایردوان

انہوں نے کہا ایران کے جنرل قاسم سلیمانی  کی  امریکی آپریشن کے  عراق میں جاری آپریشن        کے نتیجے میں ہلاکت  سے  عراق اور خطے دونوں کی سلامتی کے لیے   خطرات تشویشناک صورت حال اختیار کر گئے ہیں

ترکی نے لیبیا اپنے فوجی روانہ کردیے ہیں: صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ   ا مریکہ  اور ایران کے مابین  عراق کی وجہ سے کشیدگی عراق میں اضافہ ہو جائے  گا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار  ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا ایران کے جنرل قاسم سلیمانی  کی  امریکی آپریشن کے  عراق میں جاری آپریشن        کے نتیجے میں ہلاکت  سے  عراق اور خطے دونوں کی سلامتی کے لیے   خطرات تشویشناک صورت حال اختیار کر گئے ہیں۔

انہوں  نے کہا کہ انہوں نے کشیدگی کم کرنے  کے لیے   اپنی کوششوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔ اور انہوں نے اس سلسلے میں ایران اور  اور عراقی رہنماؤں سے رابطہ قائم کرتے ہوئے انہیں اعتدال پسندی سے  کام لینے  کا مشورہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی نے ہمیشہ ہی غیر ملکی مداخلت   کی مخالفت کی ہے اور  قاسم سلیلمانی کا واقعہ بھی  اسی زمرے میں آتا ہے۔  

انہوں نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کی شام امریکی آپریشن سے  قبل  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات چیت کی تھی۔

صدر ایردوان نے کہا کہ  انہوں  صدر ٹرمپ کو کشیدگی  کم کرنے  کے بارہ میں مشورہ دیا تھا لیکن اس کے   چار پانچ گھنٹے بعد ہی یہ آپریشن کیا گیا ۔

صدر ایردوان نے طرفین سے  نقصان پہنچنے سے قبل ہی  اس پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے  کہا کہ    صدر پوتین 8 جنوری کو ترکی  کے دورے پر تشریف لائیں گے اور ان کے ساتھ تمام علاقائی اور دوطرفہ پیشرفتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ  میرے خیال  کے مطابق  کسی بھی ملک کے کمانڈر کو  ہلاک کیا جانے پر دوسری ریاست  خاموش نہیں بیٹھے گی۔  

صدر ایردوان نے لیبیا سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ  لیبیا کے ساتھ طے پانے والے  سمجھوتے کی رو سے  ترک فوجی  لیبیا روانہ کردیے گئے ہیں۔



متعللقہ خبریں