ترکی نیٹو کے مرکز میں ہے اور اس سے دور ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا: آقار

جیسے ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے اسی طرح امریکہ بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کرے، بصورت دیگر اس مسئلے کا حل بھی ہم دوسرے طریقوں سے تلاش کریں گے: وزیر دفاع حلوصی آقار

1323562
ترکی نیٹو کے مرکز میں ہے اور اس سے دور ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا: آقار

ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آقار نے کہا ہے کہ ترکی نیٹو سے دور ہٹنے کا کوئی ارادہ  نہیں رکھتا۔

آقار نے قطر کے وزیر دفاع خالد بن محمد العطئیے کے ہمراہ  19 ویں دوحہ فورم کے دائرہ کار میں منعقدہ "بگڑتا ہوا ورلڈ آرڈر اور گلوبل سلامتی مسائل کے جدید حل" نامی نشست میں شرکت کی۔

نشست میں آقار نے میونخ سلامتی کونفرنس کے سربراہ  وولف گانگ آئیسنگر  کے سوالات کے جواب دئیے۔

ترکی کے روس سے ایس۔400 سسٹم خریدنے کے نیٹو  اور ترکی کی نیٹو رکنیت پر اثرات سے متعلق سوال کے جواب میں آقار نے کہا ہے کہ "ہم نیٹو کے مرکز میں ہیں۔ ہم کہیں نہیں جا رہے۔ نیٹو میں شامل ہیں"۔

ترکی کے روس سے ایس۔400 خریدنے کے بعد امریکہ کے ایف۔35 کے معاملے میں مسائل کھڑے کرنے کا ذکر کرتے ہوئے آقار نے کہا ہے کہ " ہمیں یقین ہے کہ ہم اس کا حل تلاش کر لیں گے۔ کیونکہ ہم ایف۔35 کے گاہک نہیں اس کے ساجھے دار ہیں۔ اس ساجھے داری کے لئے ہم تقریباً ڈیڑھ بلین ڈالر ادا کر چکے ہیں۔ جیسے ہم نے اپنی ذمہ داری کو پورا کیا ہے اسی طرح ہم امریکہ سے بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ بصورت دیگر جیسے ہم نے ایس۔400 کا حل تلاش کیا ہے اسی طرح مجبوراً اس مسئلے کا حل بھی دوسرے طریقوں سے تلاش کریں گے۔



متعللقہ خبریں