شامی عربوں کو زبردستی دہشت گرد تنظیم پی کے کے کی صفوں میں شامل کیا جا رہا ہے: شامی عرب

چشمہ امن  فوجی  آپریشن سے قبل وائی پی جی / پی کے کے دہشت گردوں کے دباو میں زبردستی   اس تنظیم میں شامل ہونے کے بارے میں انادولو نیوزایجنسی (اے اے) کو بیان دیتے ہوئے 23 سالہ الغنی علی خلیل الہندک  نے شامی عربوں کی اس تنظیم میں شامل ہونےکی تفصیل فرہم کی ہے

شامی عربوں  کو زبردستی  دہشت گرد تنظیم پی کے کے کی صفوں میں شامل کیا جا رہا ہے: شامی عرب

شام میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم وائی پی جی / پی کے کے کی صفوں سے فرار ہونے والے عربوں میں سے ایک عبد الغنی علی خلیل الہندک نے بتایا کہ اس تنظیم نے خاص طور پر عربوں کو پکڑ   کر  انہیں محاذ کی اگلی صفوں پر بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

چشمہ امن  فوجی  آپریشن سے قبل وائی پی جی / پی کے کے دہشت گردوں کے دباو میں زبردستی   اس تنظیم میں شامل ہونے کے بارے میں   انادولو  نیوز ایجنسی (اے اے) کو  بیان دیتے ہوئے 23 سالہ   الغنی علی خلیل الہندک  نے کہا کہ "مجھے اس تنظیم میں زبردستی  شامل کیا گیا ۔ میں مسلسل  دو سال تک روپوش رہا تاکہ وہ مجھے پکڑ نہ سکیں ۔  میں ایک ڈرائیور ہوں ۔ ایک دن انہوں نے مجھے 2019 کے اوائل میں کاراکوزاک میں پکڑ لیا۔ وہاں سے  وہ مجھے عین العراب (کوبانی) کے مغربی دیہی علاقوں کے کیمپوں میں لے گئے۔

" انہوں نے  مجھے زبردستی   اپنی قید میں رکھا  اوت اسلحے کی ٹریننگ فراہم کی۔ اس ٹریننگ کے دوران

شام سے  بڑی تعداد  میں  انسانوں کو  اس میں  شامل کیا گیا ۔ اس کے علاوہ عراق  کے قندیل  کے  علاقے سے آئے ہوئے   پی کے کے، کے  بڑی تعداد میں دہشت گرد موجود تھے۔ ان سب  کا خیال تھا  کہ ہم سب مل کر  'ایک کرد ریاست قائم کریں گے، ترکی کو   نقصان پہنچائیں گے  اور صرف اور صرف وہ ہی اس علاقے میں رہ جائیں گے جبکہ باقی سب لوگ یہاں سے چلے جائیں گے۔

الغنی علی خلیل الہندک  نے  کہا کہ  بیشتر عربوں  پکڑ کر ان کو زبردستی  مسلح ٹریننگ دی گئی۔ وہ عربوں کو اگلے محاذ پر  بھیج دیتے تھے  اور  خود  پیچھے کھڑے ہوجاتے تھے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔

الغنی علی خلیل الہندک  نے کہا کہ  چشمہ امن  آپریشن شروع ہونے سے 10 دن پہلے ، ایس ایم اے کے ساتھ رابطہ قائم کیا ان کے ساتھ تقریبا 9 ماہ تک رہا۔ اگر واہں سے فرار ہو جاتا تو میری فیملی کو انہوں نے نقصان پہنچانا تھا۔  میں نے وقت کا انتظار کیا اور چشمہ امن  فوجی  آپریشن کے بعد ، ایس ایم او عین عیسیٰ علاقے میں تنظیم سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

گذشتہ روز شامی عبوری  حکومت کے صدر عبد الرحمن مصطفی  نے رسولعین  میں بیان دیتے ہوئے  کہا کہ  کسی  جرم میں   ملوث نہ ہونے والے  تمام  افراد  کو ایس ایم او آئی  کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی صورت میں  وائی پی جی / پی کے کے،  کے حوالے  نہیں کیا جائے گا بلکہ  ان سب کو   عام   معافی دے دی جائے گی۔  



متعللقہ خبریں