ترکی کی نیٹو سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہوئی ہیں : چئیرمین صدارتی اطلاعاتی امور

ان خیالات کا اظہار       اپنے ٹوئٹر اکاونٹ میں  کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ترکی جس طریقے سے نیٹو سے جڑا ہوا ہے  اس کے بدلے میں ترکی  کو جس طرح اپنی سیکورٹی اور علاقائی  دفاع کی ضرورت ہے  نیٹو کو اس سلسلے میں  مشترکہ سلامتی کی حکمت عملی  اپنانے کی ضرورت ہے

ترکی کی نیٹو سے وابستہ  توقعات پوری نہیں ہوئی ہیں : چئیرمین صدارتی اطلاعاتی امور

 صدارتی اطلاعاتی امور کے چئیرمین   فاحرتین آلتون   نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں ترکی کو  نیٹو  سے جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری نہیں  ہوسکی ہیں۔

انہوں نے  ان خیالات کا اظہار       اپنے ٹوئٹر اکاونٹ میں  کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ترکی جس طریقے سے نیٹو سے جڑا ہوا ہے  اس کے بدلے میں ترکی  کو جس طرح اپنی سیکورٹی اور علاقائی  دفاع کی ضرورت ہے  نیٹو کو اس سلسلے میں  مشترکہ سلامتی کی حکمت عملی  اپنانے کی ضرورت ہے۔

آلتون نے کہاکہ " بین الاقوامی سلامتی کے ماحول کے  غیر یقینیکی صورت ِ حال  نبٹنے کے لیے چند ایک اہم فیصلوں کی توقع  کرنے کے دور   میں  نیٹو کا اہم سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں ہماری سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا جبکہ ترکی سٹریٹجک مذاکرات کی قیادت کرنے  اور اس سلسلے میں   ہر ممکنہ  تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک کو ترکی کی  سیکورٹی  کے خدشات کو سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ  "اتحاد کی مشترکہ سلامتی صرف ممبر ممالک کے خدشات کو ختم کرکے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ  حالیہ برسوں میں ترکی کو  نیٹو  سے جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری نہیں  ہوسکی ہیں۔

 

"ترکی  نیٹو میں  دوسری بڑی فوج  رکھنے کے  باوجود  کئی ایک   نیٹو کے مشن میں اپنے فرائض ادا کرچکا ہے  اور ترکی  آئندہ بھی  اپنا تعاون  اور  امداد جاری رکھے گا۔تاہم اس کے ساتھ ہمیں خدشات بھی لاحق ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

نیٹو ان خطرات کی نوعیت واضح کر کے اتحاد اور اس کے ممبر ممالک کو لاحق خطرات کو ہی حل کرسکتا ہے۔ اجتماعی تحفظ سلامتی کے استحکام اور جنگ کے وقت میں سلامتی کا سب سے اہم سنگ بنیاد ہے۔ رکن ممالک کے سلامتی کے جائز تصورات اور سیکیورٹی خدشات کو درست طریقے سے تسلیم کرنے میں ناکامی اتحاد کو کمزور کردے گی اور نیٹو کو کم قابل اعتبار بنائے گی۔ "



متعللقہ خبریں