دین اسلام میں بھائی چارگی حدود سے بالا تر ہے، ترک صدر

"صد ہا سالوں سے امن و خوشحالی کے دیار استنبول   میں  آج محض یتیموں، خواتین اور اپنی اولادوں کی جانوں کا نذرانہ پیش  کرنے والی ماوں کی فریادیں گونج رہی ہیں

دین اسلام میں بھائی چارگی حدود سے بالا تر ہے، ترک صدر

 

صدر  رجب طیب ایردوان  کا کہنا ہے کہ دین اسلام میں بھائی چارگی کی کوئی حد بندی نہیں۔

جناب ایردوان نے استنبول میں منعقدہ عید میلاد النبی  کے پروگرام کے دوران اپنے خطاب  میں مسلم امہ  کو درپیش مسائل پر توجہ مبذول کرائی۔

مہاجر و انصار  بھائی چارے کی مثال پیش کرتے ہوئے  صدر ِ ترکی نے کہا کہ"اللہ تعالی نے ہمیں انصار بننے کی توفیق عطا کی ہے، بمباری سے راہ فرار اختیار کرنے والے شامی بھائیوں کو  مہاجرین کی میزبانی کی ذمہ داری ہمیں سونپی۔ یہ شامی بھائی اپنے وطن میں حالات میں بہتری آنے کے بعد اپنے اپنے گھر بار کو لوٹ جائینگے۔  لیکن ہم انہیں زبردستی بمباری کے ماحول واپس  نہیں بھیج سکتے۔  کیونکہ ہماری بھائی چارگی مفاہمت اسی چیز کا تقاضا پیش کرتی ہے۔ "

انسان کو انسان بنانے والی اقدار کے شاید اپنی تاریخ میں  کبھی نہ پیش آنے والے  حملوں کی زد میں ہونے کا ذکر کرتے ہوئے جناب ایردوان نے بتایا کہ"صد ہا سالوں سے امن و خوشحالی کے دیار استنبول   میں  آج محض یتیموں، خواتین اور اپنی اولادوں کی جانوں کا نذرانہ پیش  کرنے والی ماوں کی فریادیں گونج رہی ہیں۔ تہذیبوں کا گہوارہ رہ چکنے والے ہمارے قدیم شہر عوام پر مظالم ڈھانے والے ڈکٹیٹروں  کے ہاتھوں ملبے   کے ڈھیر  کی ماہیت اختیار کر رہے ہیں۔"

دہشت گرد تنظیموں  کے بنی نو انسانوں کو پہنچائے گئے نقصانات کی جانب بھی اشارہ دینے والے صدر  کا کہنا تھا کہ "طاقتور بنائی گئی دہشت گرد تنظیمیں عبادت میں مصروف مومن حضرات، اسکول جانے والے بچوں کو بڑی بے دریغی سے قتل کر رہی ہیں۔ آج صلیبیوں کی دہشت گرد تنظیم نیو نازی  دنیا کے ترقی یافتہ  حتی ِ ترقی یافتہ ترین ممالک میں مسلمانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رہی ہے۔"



متعللقہ خبریں