ہم نے 9 دن میں 1500 مربع کلو میٹر علاقے کو دہشت گرد تنظیم کے ظلم سے نجات دلائی ہے: ایردوان

صرف 9 دن کے اندر ہم نے اعلیٰ سطحی دہشت گردوں سمیت 765 دہشت گردوں کو  جہنم واصل کیا اور ایک ہزار 500 مربع کلو میٹر کو دہشت گردی کے ظلم و جبر سے پاک کیا ہے: صدر رجب طیب ایردوان

ہم نے 9 دن میں 1500 مربع کلو میٹر علاقے کو دہشت گرد تنظیم کے ظلم سے نجات دلائی ہے: ایردوان

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ شام کے شمال میں آپریشن چشمہ امن کے ذریعے ہم نے 9 دن کے اندر 1500 مربع کلو میٹر علاقے کو دہشت گرد تنظیم کے ظلم سے نجات دلائی ہے۔

استنبول میں ریزے سوسائٹیز فیڈریشنوں کی طرف سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں صدر ایردوان نے چشمہ امن آپریشن کے بارے میں اہم بیانات جاری کئے ہیں۔

صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "صرف 9 دن کے اندر ہم نے سرغنہ دہشت گردوں سمیت  765 دہشت گردوں کو  جہنم واصل کیا  اور ایک ہزار 500 مربع کلو میٹر کو دہشت گردی کے ظلم و جبر سے پاک کیا ہے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ "ہم نے راس العین اور تل ابیض سمیت کُل 111 رہائشی علاقوں کو کنٹرول میں لیا ہے  اور علاقے میں مقیم اپنے بھائیوں  کو کسی قسم کی تکلیف سے بچانے کے لئے خوراک، صحت اور سکیورٹی سمیت  تمام ضروری تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ ہماری امدادی  تنظیم ہلال احمر، وزارت آفات و ہنگامی حالات AFAD ، وزارت صحت  اور سول سوسائٹیوں  نے علاقے میں امدادی کاموں کا آغاز کر دیا ہے"۔

ترکی اور امریکہ کے درمیان 17 اکتوبر کو طے پانے والے اور دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے 120 گھنٹوں کے اندر اندر سیف زون سے اخراج پر مبنی سمجھوتے کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "اگر اس سمجھوتے پر عمل کیا جاتا ہے تو کیا ہی اچھا ہے لیکن اگر خلاف ورزی کی جاتی ہے تو 120 گھنٹوں کی مہلت ختم ہوتے ہی ہم آپریشن چشمہ امن کو اسی جگہ سے دوبارہ شروع کر دیں گے"۔

سمجھوتہ امریکہ اور ترکی کے درمیان طے پانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ "توجہ دیں، ہم نے دہشتگرد تنظیم کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا امریکہ سے کیا ہے ۔اس پہلو پر بعض حلقوں کی طرف سے گمراہ کن کوشش کی جا رہی ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے"۔

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "ترکی نے آپریشن چشمہ امن کے ذریعے اس دہشت گردی کوریڈور پر مہلک حملہ کیا ہے کہ جسے  شام کے سرحد پر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔  یہی نہیں بلکہ آپریشن نے ہمارے علاقے میں امپیریلسٹ منظر ناموں کو بھی تہہ و بالا کر دیا ہے۔ اس طرح ترکی نے وہ قدم اٹھا لیا ہے کہ جو نہ صرف اس کے اپنے تحفظ کی بلکہ شام  کی زمینی سالمیت کی بھی ضمانت ثابت ہو گا"۔



متعللقہ خبریں