اگر امریکہ نے مزید ٹال مٹول سے کام لیا تو ترکی اپنے متبادل منصوبوں کو عملی جامہ پہنائے گا

ترکی شام کی سیاسی اور زمینی سالمیت کا احترام کرتا ہے، ہماری سرحدوں  پر دہشت گرد راہداری کے قیام کی ہر گز اجازت نہیں دی جائیگی

اگر امریکہ نے مزید ٹال مٹول سے کام لیا تو ترکی اپنے متبادل منصوبوں کو عملی جامہ پہنائے گا

وزیر دفاع خلوصی عقار نے متحدہ امریکہ کے ساتھ سیکورٹی زون کے امور سے متعلق اپنے بیان میں  کہا ہے کہ "ہم مذاکرات اور مشترکہ امور کو ہمارے اہداف کے عین مطابق ہونے تک اس سلسلے کو جاری رکھیں گے، اگر ان میں تاخیری آئی تو پھر یہ سلسلہ ختم ہو جائیگا۔ "

عقار نے کل مسلح افواج کے سربراہ یاشار گولیر اور فورسسز کمانڈرز  کے بھی شریک ہونے والے وزارتِ دفاع میں منعقدہ یوم غازی کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ترکی  نے دریائے فرات کے مشرقی کنارے  پر 30 تا 40 کلو میٹر  تک بھاری اسلحہ  اور دہشت گردوں سے پاک  ایک سیکورٹی زون اور امن  راہداری کے قیام کاہدف مقرر کر رکھا ہے۔ ہم نے صدر محترم  کی معلومات اور ہدایات پر مقصد، اصول اور ہدف  کے بارے میں امریکی حکام کو شروع سے ہی  واضح طور پر آگاہی کرا رکھی ہے، اس حوالے سے امریکی بیانات کا قریبی طور پر جائزہ  لیا جا رہا ہے۔ اس سے پیشتر منبج اور راقعہ میں ان کی کاروائیوں   کا سب نے مشاہدہ کیا ہے اب ہم اسی چیز کو دہرانے کے حق میں نہیں۔ اس ملک سے ہمارے مذاکرات اور مشترکہ امور  کا سلسلہ ہمارے مقاصد اور اہداف کے لیے موزوں  ہونے تک جاری رہے گا۔ ٹال مٹول اور تاخیری سے کام لینے کی صورت میں اس سلسلے کو ختم کرتے ہوئے ہم اپنے بی اور سی پلان پر عمل درآمد شروع کر دیں گے۔

وزیر دفاع نےاس بات پر زور دیا کہ ترکی شام کی سیاسی اور زمینی سالمیت کا احترام کرتا ہے، ہماری سرحدوں  پر دہشت گرد راہداری کے قیام کی ہر گز اجازت نہیں دی جائیگی۔ ہمارا قطعی ہدف شمالی شام میں دہشت گرد تنظیم PKK/پی وائے ڈی/وائے پی جی کے وجود  کا خاتمہ کرتے ہوئے  علاقے میں امن و امان قائم کرنا اور ترکی میں موجودہ شامی پناہ گزینوں کے لیے وطن واپسی کا راستہ ہموار کرنا ہے۔

 



متعللقہ خبریں