منبچ سے مشابہ ہتھکنڈوں کی اجازت نہیں دی جائے گی: قالن

منبچ سے مشابہ بھلاووں پھسلاووں ، دھیان بانٹنے اور ہدف سے توجہ ہٹانے جیسے ہتھکنڈوں کی اجازت نہیں دی جائے گی: ابراہیم قالن

منبچ سے مشابہ ہتھکنڈوں کی اجازت نہیں دی جائے گی: قالن

ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ منبچ سے مشابہ بھلاووں پھسلاووں ، دھیان بانٹنے اور ہدف سے توجہ ہٹانے جیسے ہتھکنڈوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

قالن نے کل صدارتی سوشل کمپلیکس میں صدر رجب طیب ایردوان کی زیر قیادت منعقدہ کابینہ اجلاس کے دوران بیانات جاری کئے اور اخباری نمائندوں کے سوالات کے جواب دئیے۔

ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ اجلاس کے افتتاحی خطاب میں صدر ایردوان نے ترکی کی عمومی سیاسی صورتحال ، علاقائی سلامتی کی صورتحال، ملکی داخلی حالات، اقتصادیات اور سیاست کے شعبے میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر بات کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم فرات کے مشرقی حصے کے حالات پر بغور نگاہ رکھیں گے۔ ادلب کے حالات پر بھی  ہمارے تمام متعلقہ شعبے  نگاہ رکھے ہوئے  ہیں۔

قالن نے کہا ہے کہ ہم نے شام کے شہر ادلب میں نہایت اہم فریضہ ادا کیا ہے ، سوموار کے دن صدر رجب طیب ایردوان کی زیر صدارت انقرہ میں متوقع سہ فریقی سربراہی اجلا س میں ان موضوعات پر بات کی جائے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ اجلاس میں سکیورٹی کے معاملے میں علاقے کو درپیش موضوعات پر بھی جامع شکل میں بات کی گئی خاص طور پر فرات کے مشرق میں پیش آنے والے حالات ایجنڈے کے موضوعات میں سے ایک تھے۔

مشترکہ آپریشن میکانزم کے قیام کی یاد دہانی کرواتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس سے متعلقہ کاروائیوں اور کوآرڈینیشن کو  بھی جاری رہے گی۔

سکیورٹی زون کی تشکیل، اس کی انتظامیہ، اس کی سکیورٹی اور فیلڈ کے حالات  کی ہمارے ذرائع کی طرف سے خود مختار  شکل میں مانیٹرنگ کے لئے ہماری وزارت دفاع، خفیہ ایجنسی اور ہمارے دیگر ادارے  امریکی حکام کے ساتھ مل کر کاروائیاں  جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قالن نے کہا ہے کہ یہاں ہم، جیسا کہ اس سے قبل ہمارے صدر اور وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے ، منبچ سے مشابہ بھلاووں پھسلاووں ، دھیان بانٹنے اور ہدف سے توجہ ہٹانے جیسے ہتھکنڈوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ اپنے اصولوں کے دائرہ کار میں فرات کے مشرق میں ہماری متوقع کاروائیاں واضح ہیں۔ ان کاروائیوں کو کسی بھی ڈھیل  کے بغیر نہایت پُر عزم  اور مربوط شکل میں عملی جامہ پہنایا جانا ضروری ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ یہ موضوع، 21 ستمبر کو نیو یارک میں اقوام متحدہ  کے ساتھ متوقع ملاقاتوں اور مذاکرات  کے ایجنڈے کے اہم موضوعات میں سے ایک ہو گا۔

صدارتی دفتر کے ترجمان ابراہیم قالن نے ضلع دیار بکر میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کی طرف سے اغوا کئے جانے والے بچوں کی ماوں کے احتجاجی دھرنے کی اہمیت پر بھی بات کی اور اس واقعے  کی کوریج نہ کرنے پر غیر ملکی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ غیر ملکی میڈیا کا   اس موضوع سے لاتعلق رہنا نہایت درجے مرکزِ توجہ بن رہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے والے بین الاقوامی میڈیا کی خاص طور پراس موضوع پر خاموشی قصداً بھی ہو سکتی ہے لیکن یہ چیز ہمارے باہمی اتحاد  کو اور ہمارے عزم کو متاثر نہیں کر سکے گی۔



متعللقہ خبریں