ہم امریکہ سے ترکی کا ساتھ دینے کی توقع کرتے ہیں، صدر ایردوان

ہمارا ملک اب مزید شام سے نئے مہاجرین کی میزبانی کرنے کی سکت نہیں رکھتا

ہم امریکہ سے ترکی کا ساتھ دینے کی توقع کرتے ہیں، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ ہم انسداد ِ دہشت گردی اور پناہ گزینوں کے اپنے گھر بار لو ٹ سکنے کے  لیے حفاظتی علاقے کے قیام کی کوششوں میں  امریکہ کے ترکی کا ساتھ دینے کی توقع رکھتے ہیں۔

جناب ایردوان نے امریکی وزیر کامرس ول بر روس اور ان کے ہمراہی وفد کو انقرہ میں ایوانِ صدر میں شرفِ ملاقات بخشا۔

جناب ایردوان نے اس موقع پر اپنے اظہار ِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے دوست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ آزادی تجارتی معاہدے پر مذاکرات شروع کیے جانے کے معاملے کو ایجنڈ ے میں لایا گیا ہے۔اس معاملے میں ہماری متعلقہ وزارتیں عنقریب کاروائیاں کریں گی۔

امریکی سرمایہ کاروں سے  ترکی میں سرمایہ کاری کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ " ہم مزید امریکی فرموں سے ترکی میں سرمایہ کاری کی تمنا کرتے ہیں، جنہیں ہم طرح کی آسانیاں اور تعاون فراہم کریں گے"

شام میں تازہ پیش رفت  پر بھی توجہ مبذول کراتے ہوئے جناب ایردوان نے کہا کہ"ہمارا ملک اب مزید شام سے نئے مہاجرین کی میزبانی کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔  اسوقت ہمارے ملک  کی سلامتی اور یہاں پر موجود شامی شہریوں کی وطن واپسی میں سب سے بڑی رکاوٹ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK اور اس کا دوام وائے پی جی ہے۔ نسلی صفائی کرنے والی، علاقائی عوام کو نقل مکانی پر مجبور کرنے والی اور ترک شہریوں کے جان و مال کی سلامتی کے خطرہ تشکیل دینے والی اس تنظیم کا قلع قمع لازمی ہے۔  50 ہزار ٹریلروں کے ذریعے اس تنظیم کو اسلحہ  و فوجی سازو سامان کی ترسیل   ہمارے لیے سخت بے چینی کا موجب  ہے۔  ہم امریکہ سے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد  میں پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے   لیے  سیکورٹی زون کے قیام میں ہمارا ساتھ دینے کے خواہاں ہیں۔

دہشت گرد تنظیم فیتو کے خلاف جدوجہد کے بھی پر عزم طریقے سے جاری ہونے کی جانب اشارہ کرنے والے جناب ایردوان نے بتایا کہ"امریکہ سے  15 جولائی 2016 کی شب ترک جمہوریت کو نشانہ بنانے والی فیتو کے خلاف جنگ میں قریبی تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔  اس تنظیم کا سرغنہ اسوقت پنسلوانیہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ قیام پذیر ہے جہاں سے یہ 160 ملکوں میں مداخلت کرتا ہے اور  ان کی پالیسیوں میں عمل دخل کرتا ہے۔

 

 

 



متعللقہ خبریں