ترکی کی اقوام متحدہ سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مزید موثر کردار ادا کرنے کی اپیل

ترک وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ کشمیر کا تنازع بین الاقوامی قوانین اور باہمی مذاکرات سے حل ہو جائے گا۔ ترجمان وزارت خارجہ نے مقبوضہ کشمیر پر سلامتی کونسل کےاجلاس کا خیر مقدم کرتے ہوئے خطے میں تناؤ کم کرنے کیلئے اسے خوش آئند اقدام قرار دیا

ترکی کی اقوام متحدہ سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مزید موثر کردار ادا کرنے کی اپیل

ترکی نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے   موثر کردار  ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

ترکی نے مقبوضہ کشمیر پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کیا ہے اور دونوں ممالک میں سفارتکاری کے فروغ کو خوش آئند قرار دیدیا۔

ترک وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ کشمیر کا تنازع بین الاقوامی قوانین اور باہمی مذاکرات سے حل ہو جائے گا۔ ترجمان وزارت خارجہ نے مقبوضہ کشمیر پر سلامتی کونسل کےاجلاس کا خیر مقدم کرتے ہوئے خطے میں تناؤ کم کرنے کیلئے اسے خوش آئند اقدام قرار دیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ مسئلے کے حل کیلئے مزید کوششیں کرے، امید ہے معاملہ بین الاقوامی قوانین کےمطابق حل ہوگا، فریقین یکطرفہ اقدامات اور کشیدگی کو ہوا دینے سے گریز کریں۔

ترک وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے معاملہ بین الاقوامی قوانین اور دونوں فریق کی باہمی گفت و شنید سے حل ہوگا، فریق یکطرفہ اقدامات اور کشیدگی کو ہوا دینے سے گریز کریں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت کے دعوؤں کی نفی کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کی آفیشل ویب سائٹ نے اجلاس کے متعلق بیان جاری کر دیا جس میں کہا ہے مسئلہ کشمیر یو این چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہو گا۔

کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں زیر بحث آنے پر بھارت کو منہ کو کھانی پڑی۔ سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس کے بعد اقوام متحدہ نے پوزیشن واضح کر دی۔ اقوام متحدہ کی نیوز ویب سائٹ پر بیان جاری کر دیا گیا۔

عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ کشمیر بین الاقوامی امن اور سیکیورٹی کا مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار کے اندر 1965 کے بعد پہلی بار زیر بحث آیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر یو این چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہو گا۔

رپورٹ میں سیکرٹری جنرل کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے 1972 میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے شملہ معاہدے کا بھی حوالہ بھی دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن طریقے سے ہوگا۔ اقوام متحدہ کے مبصرین لمبے عرصے سے متنازع علاقے میں موجود ہیں جو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ کرتے ہیں۔



متعللقہ خبریں