عراق: ہوٹل پر مسلح حملہ، ایک ترک سفارتی اہلکار شہید

ہمارے قونصل خانے کے اہلکاروں  پر کئے گئے منفور حملے کی مذمت کرتا ہوں اور شہید ہونے والے سفارتی اہلکار  کے لئے اللہ سے مغفرت کا طلبگار ہوں، حملے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لئے کاروائیاں جاری ہیں: صر رجب طیب ایردوان

1237378
عراق: ہوٹل پر مسلح حملہ، ایک ترک سفارتی اہلکار شہید

عراق کے شمالی شہر اربیل میں ایک ہوٹل پر مسلح حملے کے نتیجے میں ایک ترک سفارتی اہلکار شہید ہو گیا ہے۔

اطلاع کے مطابق حملے کے وقت ترک قونصل خانے کے اہلکار بھی ہوٹل میں موجود تھے اور حملے کے نتیجے میں سفارتی عملے کا ایک اہلکار شہید ہو گیا ہے۔

حملے میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

کثیر تعداد میں سکیورٹی فورسز کو جائے وقوعہ کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق حملہ آور/ حملہ آوروں کے مفرور ہونے کی وجہ سے اربیل   میں داخلے و خروج کے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

ریسٹورنٹ کے مالک کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق قونصل خانے کے عملے کے ریسٹورنٹ میں داخل ہونے کے بعد سول کپڑوں میں ملبوس اور دو عدد اسلحے سے لیس حملہ آور نے براہ راست قونصل خانے کے عملے کو ہدف بنا کر فائر کھول دیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے ٹویٹر پیج سے جاری کردہ   بیان میں حملے کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے قونصل خانے کے اہلکاروں  پر کئے گئے منفور حملے کی مذمت کرتا ہوں اور شہید ہونے والے سفارتی اہلکار  کے لئے اللہ سے مغفرت کا طلبگار ہوں۔

صدر ایردوان نے مزید کہا ہے کہ حملے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لئے ہم، عراقی حکام اور مقامی حکام  کی سطح پر  کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وزارت خارجہ کی طرف سے شہید ہونے والے سفارتی اہلکار کے بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "آج 17 جولائی بعد دوپہر اربیل میں ہمارے قونصل خانے کا ایک اہلکار قونصل خانے  سے باہر کئے گئے ایک منفور حملے  کے نتیجے میں شہید ہو گیا ہے۔ حملے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لئے ہم ضروری کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور شہید کے لئے اللہ سے رحمت اور اس کے غمزدہ کنبے اور  پوری ترک ملت کے لئے صبر جمیل کے متمنی ہیں"۔

صدارتی دفتر کے ترجمان ابراہیم قالن نے بھی ٹویٹر پیج سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "اس مذموم حملے کے ذمہ داروں کو ضروری جواب دیا جائے گا"۔



متعللقہ خبریں