صدرایردوان کی مسئلہ کشمیرسے متعلق مکمل حمایت دیگراسلامی ممالک کے لیےقابلِ تقلید ہے: صدر آزاد کشمیر

ان خیالات کا اظہار ترکی کے دورے پر تشریف لائے آزاد جموں کشمیر کے صدر سردار  مسعود خان نے ترکی  ریڈیو اور ٹیلی ویژن  کی اردو سروس کے انچارج  ڈاکٹر فرقان  حمید  کو  تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ تفصیلی انٹرویو کے لیے کلک کیجیے

صدرایردوان کی مسئلہ کشمیرسے متعلق مکمل حمایت دیگراسلامی ممالک کے لیےقابلِ تقلید ہے: صدر آزاد کشمیر
صدرِ آزاد کشمیر مسعود خان سے انٹرویو۔ تفصیلی انٹرویو کےلیےکلک کیجیے
صدرِ آزاد کشمیر مسعود خان سے انٹرویو۔ تفصیلی انٹرویو کےلیےکلک کیجیے

صدرِ آزاد کشمیر مسعود خان سے انٹرویو۔ تفصیلی انٹرویو کےلیےکلک کیجیے

ترکی  جس طریقے سے  دل کھول کر  مسئلہ کشمیر سے متعلق کشمیریوں اور پاکستان کے موقف کی حمایت کرتا ہےاس پر  ہم ترک صدر ایردوان ، ترک حکومت  اور ترک عوام کے مشکور ہیں۔  ہمیں ترکی کی حمایت اور تعاون پر فخر ہے۔ ہم نے ترکوں کی حمایت اور مدد کو اس وقت بھی دیکھا جب  حکومتِ ترکی   اور ترک عوام نے  سن 2005 میں آنے والے شدید زلزلے کے موقع پر سب سے پہلے آزاد کشمیر پہنچ کر ہمارے دکھوں کا مداو کیا تھا۔

ان خیالات کا اظہار ترکی کے دورے پر تشریف لائے آزاد جموں کشمیر کے صدر سردار  مسعود خان نے ترکی  ریڈیو اور ٹیلی ویژن  کی اردو سروس کے انچارج  ڈاکٹر فرقان  حمید  کو  تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ   ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں بڑا فعال اور مثبت اور فعال کردارا ادا کرسکتے ہیں۔  ہم کشمیری  اور پاکستانی ہونے کے ناتے پر ان پر سو فیصد  اعتماد کرتے ہیں  اور ہمیں امید ہے کہ  بھارت بھی اس سلسلے میں  صدر ایردوان اور  ترکی پر اعتماد کرتےہوئے اس مسئلے  کو حل کرنے کی جانب اہم قدم اٹھاسکتا ہے۔

صدر مسعود خان نے کہا کہ صدر ایردوان  کے بہت شکر گزار ہیں کہ جب وہ پاکستان تشریف لے گئے تھے  تو انہوں نے پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں مسئلہ کشمیر سے متعلق مشکلات  کا مکمل طور پر اندازہ ہے اور اس بات پر زور دیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا ایک پرامن حل ہونا چاہئے،  بعد میں جب وہ ہندوستان کے دورے پر تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے ہندوستان کے   وزیراعظم   نریندرا  مودی سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے اوپر زور دیا تھا اور انہوں نے سہولت کار اور ثالثی کا کردار ادا کرنے  کی بات بھی کی  اور بتایا تھا کہ کس طرح ترکی  اس مسئلے  کو حل کرنے میں مددگار ہوسکتا ہےاگرچہ  نریندرا مودی  نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا  تھا  لیکن  ترکی کی جانب سے  کی جانے والی   کوششیں  قابلِ ستائش ہیں ۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے ہنددستان   کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔   

صدر مسعود خان نے کہا کہ  کشمیریوں کی اور پاکستان کے لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ ترکی مسئلہ کشمیر کو حل  کرنے   سہولت کار کا کردار ادا کرے اور ہم اس کے پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم ترکی پر سو فیصد  اعتماد کرتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم  حکومتِ ترکی اور ترک عوام کا  پاکستان  اور  کشمیر کی مدد اور حمایت کرنے پر شکر گزار ہیں۔ترک  پاکستان کے مخلص دوست ہیں اور انہیں کشمیریوں کے درد اور ان کی مشکلات کا مکمل طور پر احساس اور   استدراک ہے۔  ترکی   سفارتکاری کا   کردار ادا کرتے ہوئے  دنیا کے اہم ممالک  کا اجلاس ترکی طلب کرتے ہوئے   مسئلہ کشمیر کو حل  کرسکتا ہے  اور جنوبی  ایشیا  میں امن کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

تفصیلی انٹرویو  کے لیے کلک  کیجیے۔



متعللقہ خبریں