ترکی اپنے تجربات کے ساتھ نیوزی لینڈ کی ہر طرح کی مدد کے لئے تیار ہے

دو مساجد پر دہشت گردی کے حملے کے بعد ترکی کے نائب صدر فواد اوکتائے اور وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کرائسٹ چرچ کے دورے پر

ترکی اپنے تجربات کے ساتھ نیوزی لینڈ کی ہر طرح کی مدد کے لئے تیار ہے

دو مساجد پر دہشت گردی کے حملے کے بعد  ترکی کے نائب صدر فواد اوکتائے اور وزیر خارجہ میولود چاوش اولو   کل  کرائسٹ چرچ پہنچ گئے۔

پچاس افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے اس حملے کے بعد کئے جانے والے اس دورے  میں حملے میں زخمی ہونے والے ترک شہری ذکریا تویان کے والد اور بھائی بھی نائب صدر اور وزیر خارجہ کے ساتھ اسی طیارے میں سوار تھے۔

سفر کے دوران نائب صدر فواد اوکتائے اور وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے متاثرہ کنبے  کی حال پُرسی کی  اور صدر ایردوان کی بھی نیک تمنائیں اور سلام  ان تک پہنچایا۔

صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اوکتائے اور چاوش اولو نے کہا کہ حکومت حالات پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہے اور زخمیوں کے لئے ہر طرح کے امکانات فراہم کئے گئے ہیں۔

وفد نے استنبول سے کرائسٹ چرچ تک بغیر وقفے کی ساڑھے 19 گھنٹے تک پرواز کی جو طویل ترین پرواز  کی حیثیت سے عالمی سول ایوی ایشن کی تاریخ  کا حصہ  بن گئی ہے۔

نیوزی لینڈ پہنچنے پر ویلنگٹن میں ترکی کے سفیر احمد ایرگین نے کرسٹ چرچ ائیرپورٹ پر اوکتائے اور چاوش اولو کا استقبال کیا۔

بعد ازاں انہوں نے ترکی کے نائب صدر فواد اوکتائے اور وزیر خارجہ میولود چاوش اولو اور نیوزی لینڈ کے نائب صدر اور وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز کے ساتھ مذاکرات اور بین الوفود مذاکرات میں بھی شرکت کی۔

مذاکرات ہوٹل میں ہوئے جن میں نیوزی لینڈ  میں 2 مساجد پر دہشتگردی کے حملے   پر ترک ملت  اور صدر رجب طیب ایردوان  کے گہرے افسوس سے آگاہ کیا گیا۔

مذاکرات میں زخمی ترک شہریوں کی صورتحال اور واقعے کی تحقیقات کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں اور کہا گیا کہ ترکی اپنے تجربات کے ساتھ نیوزی لینڈ کی ہر طرح کی مدد کے لئے تیار ہے۔

مذاکرات میں کہا گیا کہ انتہائی متعصب رجحانات میں اضافے اور نسلیت پرستی کے ساتھ ساتھ اسلام دشمنی میں اضافہ نہایت افسوسناک پہلو ہے اور یہ تین پہلو  دہشتگردی کے رجحان  کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ یہ حملہ  صاف لفظوں میں دہشت گردانہ اقدام ہے، آج جو دہشت گرد مسلمانوں پر حملے کر رہے ہیں وہ کل کسی اور مذہب کے پیروکاروں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں لہٰذا دہشتگردی کے حملوں کے مقابل مشترکہ طرزعمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

توقع ہے کہ نائب صدر فواد اوکتائے اور وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کل جائے وقوعہ کا دورہ کریں گے اور حالات کا جائزہ لیں گے۔

ترک وفد زخمیوں  کی بیماری پرسی کرے گا اور مسلمان کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقات کرے گا۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کے حملے سے متعلق تازہ معلومات کے تبادلے کے لئے منعقدہ پریس کانفرنس میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے ترکی سے وفد کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔

آرڈرن نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ تعاون کی خاطر ترکی سے وفد کی آمد پر ہمیں مسرت ہے۔ ترکی کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے۔ ہم وفد کی آمد کے منتظر ہیں۔



متعللقہ خبریں