اسلامی دہشت گردی کی طرح عیسائی یا یہودی دہشت گردی کی اصطلاح بھی غلط ہے: قالن

جس طرح اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح غلط ہے اسی طرح عیسائی دہشت گردی اور یہودی دہشت گردی کی اصطلاح بھی غلط ہے: ابراہیم قالن

اسلامی دہشت گردی کی طرح عیسائی یا یہودی دہشت گردی کی اصطلاح بھی غلط ہے: قالن

ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ جس طرح اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح غلط ہے اسی طرح عیسائی دہشت گردی اور یہودی دہشت گردی کی اصطلاح بھی غلط ہے۔

ابراہیم قالن نے ضلع بُرصا میں ایک تقریب سے خطاب میں نیوزی لینڈ میں 2 مساجد پر دہشتگردی کے حملے کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ حملہ اگر مسلمانوں کی بجائے کسی کلیسا یا پھر کسی یہودی عبادت گاہ پر ہوتا تو دنیا کا ردعمل مختلف ہوتا۔

قالن نے کہا کہ اس نوعیت کے حملے ہونے پر ہم ایسے جذباتی ردعمل کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اگر حملہ آور عیسائی ہو تو ہم عیسائی دہشت گردی  کے الفاظ کیوں استعمال نہیں کرتے؟ اگر یہودی ہو تو ہم اس کے لئے یہودی دہشت گردی کے الفاظ کیوں استعمال نہیں کرتے؟

انہوں نے کہا کہ جیسے ایک مسلمان کے حملہ کرنے پر تمام مسلمانوں اور دین اسلام کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا  غلط  ہے اسی طرح عیسائی یا یہودی کے حملہ کرنے کی صورت میں تمام عیسائیوں  یا یہودیوں یا پھر عیسائیت یا صیہونیت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی غلط ہے۔

قالن نے کہا کہ ایک اور اہم مسئلہ نیوزی لینڈ کے قاتل کا اپنے نام نہاد مینی فیسٹو میں ترکی اور صدر رجب طیب ایردوان کو ہدف دکھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مینی فیسٹو میں ہمارے صدر کے لئے "یورپی تہذیب کو ختم کرنے کے لئے ہر روز تازہ حملہ کرنے والے لیڈر" کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک جگہ  صدر ایردوان کے لئے "ہمارے ازلی و ابدی دشمن ترکوں کا اس وقت مضبوط ترین لیڈر"  کا جملہ رقم کیا گیا ہے۔

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ یہاں ہمارے صدر رجب طیب ایردوان کو ہدف دکھایا جانا بلاشبہ محض اتفاق نہیں ہے کیونکہ اس وقت ہمارے صدر دنیا کے ان چند رہنماوں میں سے ایک ہیں کہ جو با آوازِ بلند کہہ رہے ہیں کہ موجودہ عالمی نظام انصاف  فراہم نہیں کر رہا اور اس نظام کا تبدیل ہونا ضروری ہے۔



متعللقہ خبریں