کیا مغرب اب نیو زی لینڈ کے شہدا کے لیے بھی احتجاجی ریلیاں نکالے گا؟ صدارتی ترجمان

کیا یہ لوگ  اس مشترکہ صدمے میں ہمارے ساتھ مل کر سوگ منائیں گے؟

کیا مغرب اب نیو زی لینڈ کے شہدا کے لیے بھی احتجاجی ریلیاں نکالے گا؟ صدارتی ترجمان

ایوان ِ صدر کے ترجمان ابراہیم قالن نے دنیا بھر سے سوال کیا ہے کہ کیا چارلی ہیبڈو کے لیے مارچ   کرنے والے  اب نیو زی لینڈ میں قتل کیے جانے والے مسلمانوں کے لیے بھی اسی رد عمل کا مظاہرہ کریں گے؟

قالن نے ٹویٹر اکاؤنٹ سے نیو زی لینڈ کی دو مساجد پر دہشت گرد حملے  کے حوالے سے  اپنے پیغام میں کہا ہے کہ "جیسا رد عمل چارلی ہیبڈو  حملے کے بعد پیش کیا گیا تھا کیا اب یہی رد عمل نیو زی لینڈ کے شہدا کے لیے پیش کیا جائیگا؟ کیا یہ لوگ  اس مشترکہ صدمے میں ہمارے ساتھ مل کر سوگ منائیں گے؟"

یا د رہے کہ 7 جنوری سن 2015 کو پیرس میں مزاحیہ جریدے چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے میں  17 افراد جان بحق ہو گئے تھے اور اس حملے کے بعد 50 کے قریب مملکتی و حکومتی سربراہان کی شراکت سے ایک احتجاجی مارچ کیا گیا تھا۔



متعللقہ خبریں