ہمیں نیو زی لینڈ کے حملے کے اصل کرداروں سے حساب پوچھنا ہو گا، صدرِ ترکی

نیوزی لینڈ کہاں  ترکی کہاں؟  یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دنیا کے  دوسرے کونے پر ایک قاتل   مسلمانوں اور ترکوں  کے خلاف  نفرت بھرے موقف کا مظاہرہ کررہا ہو

ہمیں نیو زی لینڈ  کے حملے کے اصل کرداروں سے حساب پوچھنا ہو گا، صدرِ ترکی

صدر رجب طیب ایردوان  نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ پیش آنے والے دہشت گرد حملے  کے پیچھے کارفرما  مجرمین سے حساب  پوچھا جائے۔

صدر ترکی نے 31 مارچ کو منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے پیشتر ضلع تیکر داع کے  جلسے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے  کل نیوزی  لینڈ میں  ہونے والے دہشتگردحملے کا بھی ذکر چھیڑا۔

 مسلمانوں پر کیے گئے اس حملے کو" قتل عام"  قرار دینے والے صدر ترکی نے کہا کہ  حملے میں قاتلوں کی جانب سے  استعمال  کردہ اسلحہ کو ترک اور مسلمان دشمنی پر مبنی  تحریروں کے ساتھ سجایا گیا جس میں میں  یہ درج  تھا کہ ہم استنبول آئیں گے اور تمام مساجد اور میناروں کو زمین بوس کر دیں گے۔  نیوزی لینڈ کہاں  ترکی کہاں؟  یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دنیا کے  دوسرے کونے پر ایک قاتل   مسلمانوں اور ترکوں  کے خلاف  نفرت بھرے موقف کا مظاہرہ کررہا ہو۔

قاتل کے دو بار استنبول آنے کی یاد دہانی کرواتے ہوئے صدر ترکی نے بتایا کہ استنبول میں تین روز تک  قیام کیا تھا،   بعد میں یہ  دوبارہ ترکی آیا تھا، ہم   اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا کہ اس کے ترکی میں کسی  دہشت گرد  گروپ سے تعلقات ہیں کہ نہیں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ نیوزی لینڈ بھی اس معاملے کی مکمل طور پر چھان بین کرے۔  ایک معمولی نوعیت کی کارروائی نہیں ہے 49 افراد کی جانیں گئی ہیں۔ اس قتل عام کا  حساب  پوری طرح پوچھنا ہوگا۔ وگرنہ ایسا نہ کہ ایک دن    اسی طرح کا جانی نقصان نیو زی لینڈ کے مقامی شہریوں  کو  بھی اٹھانا پڑے۔



متعللقہ خبریں