ترکی سے متعلق امریکی حقوق انسانی رپورٹ پر ترکی کا شدید ردِ عمل

ترکی: رپورٹ نے  دہشت گرد تنظیم فیتو کی 15 جولائی 2016 کی ناکام خونی بغاوت کے عقب میں کن کن کے کار فرما ہونے کی سوچ کو تقویت دی ہے

ترکی سے متعلق امریکی حقوق انسانی رپورٹ پر ترکی کا شدید ردِ عمل

ترکی نے متحدہ امریکہ کی 2018 حقوقِ انسانی رپورٹ پر رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ  بیان میں کہا گیا ہے کہ "امریکی حقوقِ انسانی  رپورٹ  ہمارے ملک سے متعلق من گھڑت دعووں، حقائق کے منافی معلومات اور مفروضات  پر  مشتمل ہے۔ "

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹ نے  دہشت گرد تنظیم فیتو کی 15 جولائی 2016 کی ناکام خونی بغاوت کے عقب میں کن کن کے کار فرما ہونے کی سوچ کو تقویت دی ہے۔

اعلامیہ میں  اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حقوقِ انسانی کا تحفظ اور اس کا فروغ  ترکی  کے اٹل اولیت کے معاملات میں  شامل ہے،  نہ صرف ترک شہریوں بلکہ دنیا کے چاروں گوشوں میں  کروڑوں انسانوں کے حقوق کے تحفظ  اور ان کو در پیش انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سد باب کرنے کے لیے  ترکی کی نمایاں کوششیں اس حقیقت کا واضح مظہر ہیں۔

کہا گیا ہے کہ "امریکہ کی امسال کی رپورٹ میں میں بھی PKK، فیتو،  پی وائے ڈی، داعش اور ڈی ایچ کے پی ۔سی سمیت  تمام  تر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ہماری حق بجانب جنگ کا ادراک نہ کیا جا  سکنا مایوس کن ہے۔ "

دفتر خارجہ نے "رپورٹ میں ہمارے ملک و خطے  میں امن و سلامتی کے لیے عالمی قوانین اور حقوقِ انسانی کے احترام کے دائرہ کار میں جاری دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے زمرے میں پیش کیے جانے  کو  مسترد  کیا ہے۔"

 

 



متعللقہ خبریں