شام سے مربوط امریکی انخلاء کے لئے ایک مشترکہ ڈیوٹی فورس قائم کر دی گئی ہے: چاوش اولو

امریکی فوجیوں کے شام سے انخلاء کے عمل کو مربوط شکل میں سرانجام دینے کے لئے ترکی اور امریکہ کے درمیان ایک مشترکہ ڈیوٹی فورس قائم کی گئی ہے: وزیر خارجہ میولود چاوش اولو

1140356
شام سے مربوط امریکی انخلاء کے لئے ایک مشترکہ ڈیوٹی فورس قائم کر دی گئی ہے: چاوش اولو

ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کے شام سے انخلاء کے عمل کو مربوط شکل میں سرانجام دینے کے لئے ترکی اور امریکہ کے درمیان ایک مشترکہ ڈیوٹی فورس قائم کی گئی ہے۔

میولود چاوش اولو ،داعش مخالف کولیشن  کے وزرائے خارجہ اجلاس  میں شرکت کے لئے، واشنگٹن  کے دورے پر  ہیں جہاں انہوں نے دو طرفہ ملاقاتوں اور مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ ترکی اور امریکہ نے، امریکی فوجیوں کے انخلاء  اور شام میں ترکی کے سکیورٹی خدشات  کے بارے میں مشترکہ کاروائیاں کی ہیں اور ان کاروائیوں کے ذیل میں  شام سے امریکی فوج کے انخلاء  کو مربوط شکل میں عمل میں لانے کے لئے ترکی اور امریکہ کے درمیان ایک مشترکہ ڈیوٹی فورس قائم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ڈیوٹی فورس کا کام شام سے امریکی فوج کے انخلاء کے عمل پر بغور نگاہ رکھنا ہو گا۔ ڈیوٹی فورس کے قیام کی تجویز میں نے ٹیلی فون پر امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو پیش کی تھی اور انہوں نے بھی اس تجویز کو مثبت قرار دیا ہے۔

چاوش اولو نے کہا ہے کہ مذکورہ ڈیوٹی فورس صرف امریکی انخلاء  پر توجہ مرکوز رکھے گی اور ایک تواتر سے اجلاس کر کے دوطرفہ تجاویز کا جائزہ لےگی۔ اس طرح ہم نے مستقبل کے لئے  اور انخلاء کے عمل کو بغیر کسی مسئلے کے مکمل کرنے کے لئے ایک میکانزم کو شروع کر دیا ہے۔

منبج روڈ میپ کے عمل میں تاخیر کی یاد دہانی کروائے جانے پر چاوش اولو نے کہا کہ ناموافق موسمی حالات کے باوجود منبج روڈ میپ کے اطلاق میں ہم ایک تیزی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم YPG/PKK  کے ابھی تک منبج میں موجود ہونے اور اس کے وہاں سے پیچھے ہٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے چاوش اولو نے کہا کہ امریکہ جانتے بوجھتے یا انجانے میں کردوں کو YPG کے ساتھ مساوی رکھ رہا ہے۔

شام کے شمال مشرق میں متوقع سکیورٹی زون کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر مقصد دہشت گردوں کے لئے  بفر زون کا قیام ہوا تو ترکی اس کی مخالفت کرے گا۔

وزیر خارجہ چاوش اولو نے کہا کہ اگر سکیورٹی زون ترکی کے خدشات کی تلافی کرتا ہو تو اس کی ترکی کی طرف سے بھی حمایت کی جائے گی۔ سکیورٹی زون کے قیام کی تجویز صدر رجب طیب ایردوان  کی طرف سے پیش کی گئی تھی لیکن امریکہ کی سابقہ اوباما انتظامیہ نے اس طرف توجہ نہیں دی تھی۔



متعللقہ خبریں