سال کے قومی سلامتی کونسل کے پہلے اجلاس میں ملک کی تازہ ترین سیکورٹی کی صورتِ حال پر غور

صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں انقرہ میں منعقد ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔  قومی سلامتی کونسل  کا یہ  اجلاس پانچ گھنٹے تک  جاری رہا

1136196
سال کے قومی سلامتی کونسل کے پہلے اجلاس میں ملک کی تازہ ترین سیکورٹی کی صورتِ حال پر غور

سال کے قومی سلامتی کونسل کی پہلے اجلاس میں دہشت گرد تنظیموں  کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں انقرہ میں منعقد ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔  قومی سلامتی کونسل  کا یہ  اجلاس پانچ گھنٹے تک  جاری رہا۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ تحریری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ترکی کی سیکورٹی کے لحاظ سے اہمیت کے حامل اندرون ملک و بیرون ملک رونما ہونے والے تمام واقعات اور سن  2018 کی سیکورٹی کا تمام پہلووں سے  جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ  سن 2019 میں  متوقع خطرات  پر بھی نگاہ ڈالی گئی۔

اجلاس میں ترکی کے اتحاد و یکجہتی کیلئے خطرے کا باعث سمجھی جانے والی دہشتگرد تنظیمیں فیتو،   پی وائی ڈی، پی کے کے،  وائی  پی جی اور داعش سمیت تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف اندرون ملک  اور  بیرون ملک جاری فوجی آپریشنز کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔

 جاری کردہ  اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے  دائرہ کار میں ملک کی جنوبی سرحدوں کے تحفظ کے لئے ہر ضروری اقدامات اختیار کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔   اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کردیئے گئے ہیں اور ان  اداروں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا اور اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں دہشتگرد تنظیموں کے اراکین کو  غیر ممالک سے حاصل ہونے والی امداد کو روکنے کے لئے ان تمام مطابق ممالک سے اس قسم کی کاروائیوں سے باز آنے کی ایک بار پھر اپیل کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلا تعطل فوجی آپریشن کو بڑے پیمانے پر جاری رکھا جائے گا۔

اجلاس میں متعدد ممالک کی جانب سے ترکی سے راہ فرار اختیار کرنے والے دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ان کو ترکی کے حوالے نہ کرنے کے  عمل کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد  کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

 اجلاس میں  کہا گیا ہے کہ ترکی کی شام سے ملنے والی ملحقہ  سرحدوں  کی سیکورٹی کے لئے جس طرح ماضی میں فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششوں سے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اب بھی ان اقدامات کو اٹھانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

 اجلاس میں ادلیب کے سٹیٹس کو  جاری رکھنے،  منبج روڈ میپ پر سرعت سے عمل درآمد کرنے اور دریائے فرات کے مشرقی کنارے سے متعلق طے پانے والی مطابقت کے مطابق اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

 ترکی جس نے اصولی طور پر تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھنے کا فیصلہ کررکھا ہے  شام  کے سیاسی اتحاد اور قومی سلامتی کے تحفظ،  اپنا گھر  بار ترک کرنے پر مجبور ہونے والے  لاکھوں شامی باشندوں کو ان کے گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات اٹھانے سے مذکورہ بحران کو حل کرنے میں مدد  گار ہونے والی  آئینی کمیٹی کی تشکیل سے علاقے میں امن و استحکام میں مدد ملنے سے بھی  آگاہ کیا گیا ہے۔

 جاری کردہ تحریری  اعلامیے  میں مشرقی بحیرہ روم، بحیرہ ایجین  اور بحیرہ اسود کی تازہ ترین صورتحال جائزہ لیا گیا  اور طے پانے والے بین الاقوامی سمجھوتوں کی وجہ سے ترکی کو حاصل حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے  کی ضرورت پر بھی  زور دیا گیا۔

 



متعللقہ خبریں