ترک مسلح افواج کی منبج اوردریائےفرات کےمشرقی کنارے پرفوجی کاروائی کی تیاریاں مکمل : وزیر دفاع آقار

موجودہ دورمیں دہشت گردی کےخلاف بڑے پیمانےپرجدوجہد کا سلسلہ جاری ہےماضی کی طرح موجودہ دورمیں بھی بڑےپیمانے پرکامیابیاں حاصل کی ہیں۔انہوں نےاس موقع پرفرات ڈھال فوجی آپریشن اورشاخ زیتون فوجی آپریشن میں حاصل کردہ کامیابیوں کےبارے میں آگاہی فراہم کی

1135051
ترک مسلح افواج کی منبج اوردریائےفرات کےمشرقی کنارے پرفوجی کاروائی کی تیاریاں مکمل : وزیر دفاع آقار

وزیر قومی دفاع حلوصی آقار  نے کہا ہے کہ ترک مسلح افواج نے منبج  کے علاقے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن  قائم کرنے کی خاطر اقدامات اٹھانے کے لئے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

 انہوں نےان خیالات کا اظہار  کل  ایسکی شہر میں فوجی سازوسامان کی مرمت کرنے والے کارخانے کے ساتھ اسٹریٹجک سمجھوتے کی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد کارخانے میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ ایک عشائیے میں شرکت کے دوران کیا۔

 انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ترکی ہونے کے ناطے وہ علاقے اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی پیشرفت کا قریبی جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر جدوجہد کا سلسلہ جاری ہے ماضی کی طرح موجودہ دور میں بھی بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر فرات ڈھال فوجی آپریشن  اور  شاخ زیتون فوجی آپریشن میں حاصل کردہ کامیابیوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔

 انہوں نے کہا کہ ایسا کرتے وقت منبج  ترک فوجی معصوم انسانوں اور دہشت گردوں کے درمیان فرق کو  ملحوظ خاطر رکھ رہے ہیں۔ ترک فوجی،  ماحولیات، تاریخ اور مذہبی عمارتوں کا خصوصی خیال رکھے ہوئے ہیں  اور ان کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترک فوجیوں کا واحد ہدف صرف اور صرف دہشت گرد ہیں، ہمارا عرب اور کرد  بھائیوں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔  اس وقت ہمارے سامنے منبج  اور دریائے فرات کا مشرقی علاقہ ہے۔ہم اس مقصد کے لئے متعلقہ ممالک سے قریبی رابطہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ ترک مسلح افواج اپنے اوپر عائد ہونے والے فرائض کے دائرہ کار میں تمام تیاریاں مکمل کیے ہوئے ہیں اور  وقت آنے پرمنبج  اور دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں اپنے فرائض ادا کرنے سے نہیں کترائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی  کو کسی قسم کے خدشات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے جس طرح ترک  مسلح افواج نے ماضی میں فرات ڈھال  اور شاخ زیتون فوجی آپریشن کے دوران سویلین کو نقصان پہنچائے بغیر کاروائی کی ہے بالکل اسی طرح منبج  اور  دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر بھی اسی قسم کی کاروائی کی جائے گی البتہ جنہوں نے وہاں پر خندقیں  کھود رکھی ہم انہیں    انہی  خندقوں  میں دفن کرکے ہی  دم  لیں گے۔



متعللقہ خبریں