پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات ایک الگ ہی مقام اور حیثیت رکھتے ہیں: ترک وزیر داخلہ سیلمان سوئیلو

ترک وزیر داخلہ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ نیوز ایجنسی کو بیان دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے  پاکستان کےداخلی امور کے وزیر مملکت  شہریار آفریدی اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی

1108708
پاکستان  کے ساتھ قریبی تعلقات ایک الگ ہی مقام اور حیثیت رکھتے ہیں: ترک وزیر داخلہ  سیلمان سوئیلو

ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو  نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں ترکی، ایران، پاکستان اور افغانستان علاقے میں پناہ گزینوں کے مسئلہ کے بارے میں یکجا ہوں گے۔

ترک وزیر داخلہ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ نیوز ایجنسی کو بیان دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے  پاکستان کےداخلی امور کے وزیر مملکت  شہریار آفریدی اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ہونے والی ملاقات سے بھی آگاہ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کی پاکستان کے ساتھ قربت دراصل ایک تاریخی امانت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ترکی کی جنگ آزادی کے دوران پاکستان کے عوام کی مکمل حمایت اور پشت پناہی کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون اعلی سطح پر جاری رہے گا۔

 انہوں نے علاقائی سکیورٹی کے موضوع پر مطابقت پائے جانے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ہم نے ترکی ہونے کے ناطے چھ ہزار کے لگ بھگ پولیس اہلکاروں کو تعلیم و تربیت فراہم کی ہے اور اس ٹریننگ کو جاری رکھا جائے گا اور خاص طور پر سائبر کرائم پربھی مطابقت پائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ پناہ گزینوں کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں پاکستان کےداخلی امور کے وزیر مملکت  شہریار آفریدی سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی داخلی امور کے وزیر مملکت شہریار آفریدی سے ان کے اختیارات سنبھالنے کے بعد ہیں رابطہ قائم کیا تھا اور اس وقت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو نے کہا کہ  پناہ گزینوں کے مسئلے کے بارے میں ایک میکانیزم قائم کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  ہم  دہشتگرد تنظیم فیتو کے بارے میں حکومتِ ترکی کے ساتھ حکومت پاکستان کے قریبی تعاون پرشکر گزار ہیں۔ پاکستان نے  شروع  دن  ہی سے  دہشت گرد تنظیم فیتو  کے بارے میں ترکی کی مکمل حمایت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کے نتیجے میں بڑے اہم  مسئلہ پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں ان کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ترکی،  ایران،  پاکستان اور افغانستان  ایک   متن تیارکرتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

واضح رہے کہ ترکی اور پاکستان دو ایسے دوست ممالک ہیں جو عالمی پلیٹ فارم پر ایک جیسا موقف رکھتے ہیں اور دونوں ممالک مسئلہ کشمیر اور مسئلہ قبرص کے حل پرایک دوسرے کا مکمل ساتھ دیتے چلے آرہے ہیں۔



متعللقہ خبریں