امریکہ واضح کرے کہ وہ کس کے ساتھ ہے اپنے اتحادیوں کے ساتھ یا پھر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ: چاوش اولو

ہم نے  جیسے PKK کے خلاف جدوجہد کی اسی  طرح YPG کے خلاف بھی کریں گے۔ یہ جدوجہد ہم آفرین میں بھی کریں گے، فرات کے مشرق میں بھی اور ان کے علاوہ کوئی بھی جگہ ہو ہم یہ جدووجہد کریں گے۔ یہ ہمارے لئے زندگی موت کا مسئلہ ہے: چاوش اولو

889211
امریکہ واضح کرے کہ وہ کس کے ساتھ ہے اپنے اتحادیوں کے ساتھ یا پھر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ: چاوش اولو

ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ امریکہ کو واضح کرنا چاہیے  کہ آیا وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہے یا پھر دہشتگرد تنظیموں کو ترجیح دیتا ہے۔

چاوش اولو"  کوریا جزیرہ نما کا تحفظ و استحکام " نامی وزرائےخارجہ کانفرنس میں شرکت کے لئے  کینیڈا کے شہر وانکوور کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے شام میں امریکہ کی سرحدی یونٹوں کے بارے میں بیانات دئیے۔

وانکوور میں اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ کس کے ساتھ ہے، اتحادیوں کے ساتھ یا پھر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ؟ اگر تو امریکہ دہشت گرد تنظیموں کو ترجیح دیتا ہے تو ہمارا طرز عمل  بھی اسی کے مطابق مختلف ہو گا۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ کے YPGکو اسلحہ فراہم نہ کرنے کے بارے میں متعدد دفعہ جاری کردہ بیان کی یاددہانی کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بیان کے بعد امریکہ کے مختلف شعبوں سے متضاد بیانات جاری کئے گئے۔

وزیر خارجہ چاوش اولو نے کہا ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کے خلاف  ہم اپنی تدابیر اختیار کریں گے ۔ ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی امریکہ کر رہا ہے یا کوئی اور ملک۔

انہوں نے کہا سب سے پہلے تو یہ کہ امریکہ کولیشن کے نام پر کوئی بیان جاری نہیں کر سکتا کیونکہ ہم بھی اس کولیشن میں شامل ہیں اور ترکی دہشت گرد تنظیم YPG کے خلاف ہر طرح کی تدبیر اختیار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ PKK کے پیچھے بھی دیگر ممالک موجود تھے لیکن ہم نے  جیسے PKK کے خلاف جدوجہد کی اسی  طرح YPG کے خلاف بھی کریں گے۔ یہ جدوجہد ہم آفرین میں بھی کریں گے  ، فرات کے مشرق میں بھی اور ان کے علاوہ کوئی بھی جگہ ہو ہم یہ جدووجہد کریں گے۔ یہ ہمارے لئے زندگی موت کا مسئلہ ہے۔

وزیر خارجہ چاوش اولو نے کہا کہ ترک ملت کے خلاف کسی بھی خطرے کو برطرف کرنا ہمارا فرض ہے اور اس فرض کی ادائیگی کے لئے ہمیں جو بھی کرنا پڑا کریں گے۔ لیکن دہشت گرد تنظیموں کا انتخاب کرنے والے ممالک کے لئے ہمارا طرزعمل مختلف ہو گا۔ ہماری دشمن دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنے والے ان کی پشت پناہی کرنے والے ممالک پر ہمارا اعتماد کرنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم YPG کے خلاف ترکی کے آپریشنوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔ امریکہ اور مغربی دنیا کو اس معاملے میں ایمانداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ شام کے حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں یا اس کی زمینی سالمیت کے خواہش مند ہیں؟

توقع ہے کہ وانکوور میں آج متوقع اس اجلاس میں وزیر خارجہ میولود چاوش اولو امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن  کے ساتھ ملاقات کریں گے اور مذکورہ موضوعات پر بات چیت کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی زیر قیادت دہشت گرد داعش کے خلاف کولیشن  کے ترجمان کرنل ریان ڈیلون  نے کہا تھا کہ "ہم، شام میں 30 ہزار افراد پر مشتمل سرحدی سکیورٹی فورس قائم کریں گے جس کے زیادہ تر اراکین شامی ڈیموکریٹک  فورسز  سے لئے جائیں گے"۔

یاد رہے کہ شامی ڈیموکریٹک  فورسز   کی اکثریت PYD/PKK کے دہشت گردوں پر مشتمل ہے۔ 



متعللقہ خبریں