یوم جہوریہ کی مناسبت سے واشنگٹن میں ایک خصوصی استقبالیہ

ترک قوم  نے   عزت و وقار کے نام پر ہمیشہ  موت کو ہی  ترجیح دی ہے، صدر ایردوان

836007
یوم جہوریہ کی مناسبت سے واشنگٹن میں ایک خصوصی استقبالیہ

جمہوریہ ترکی کے قیام کی 94 ویں  سالگرہ کی مناسبت سے ترکی  کے واشنگٹن میں سفارتخانے نے  ایک استقبالیہ دیا ہے۔

اس دوران صدر رجب طیب ایردوان اور  صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے   خصوصی پیغامات کو پڑھ کر سنایا گیا۔

سفیر سردار کلچ  کی جانب سے   پڑھے گئے صدر ِ ترکی کے  پیغام میں  کہا گیا ہے کہ" جمہوریہ ترکی  صد ہا سال سے حریت اور وقار   کی اقدار کا دامن ہاتھ سے چھوڑے بغیر   اپنے سفر پر قائم دائم ہے۔   اس کی قوم  نے   عزت و وقار کے نام پر ہمیشہ  موت کو ہی  ترجیح دی ہے،  ترک قوم نے  29 اکتوبر سن 1923 کو ایک بار پھر  پوری دنیا کو اس کے حقِ خود ارادیت سے   پیچھے نہ ہٹنے   اور کسی کو اس میں مداخلت کرنے کی اجازت نہ دینے کا پیغام دیا تھا۔ "

پیغام میں  کہا گیا ہے کہ "ہماری جنگ آزادی  کو فتح  سے ہمکنار کرنے والی اور  جمہوریت  کو جانبر کرنے والی ہماری  یہ روح  ٹھیک  94 برس قبل کی طرح آج بھی   اپنے پاؤں پر دلجمعی سے کھڑی ہے۔"

ترکی دنیا  بھر کے تمام تر مظلوموں   کے لیے امید  کی ایک کرن ہے،  خونی ترین دہشت گرد تنظیموں کا ہدف بننے   کا نمایاں ترین سبب یہی ہے۔ داعش، PKK، پی وائے ڈی اور فیتو  کی طرح کی دہشت گرد تنظیموں  کو ہم نے ہمارے  اہداف سے   منحرف کرنے کی  اجازت  نہیں دی اور نہ ہی دیں  گے۔ ہم   تمام تر رکاوٹوں اور چالوں کے باوجود سن 2023 کے اہداف کی جانب رواں دواں ہیں۔

امریکی  نائب  وزیر خارجہ تھامس  شانون نے  طویل مدت کے بعد پہلی بار کسی امریکی صدر کی جانب سے 29 اکتوبر کے استقبالیہ کے موقع پر روانہ کردہ پیغام کو پڑھ کر سنایا۔

امریکی صدر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ "جمہوریہ ترکی  کے قیام کی 94 ویں سالگرہ  کے موقع پر میں  امریکی عوام کے نام پر  ترک عوام کے لیے  نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔ 60  برسوں سے زائد عرصے سے  نیٹو کے یہ دو اتحادی ممالک شانہ بشانہ ہیں۔"

ان کا کہنا  ہے کہ داعش اور  PKK سمیت تمام تر  دہشت گرد گروہوں  کے خلاف علاقائی استحکام  کا دفاع  کرنے کی راہ پر چلنے والے  دونوں اتحادی جدوجہد میں مصروف ہیں، امریکہ  ترکی کے جمہوریہ اداروں  کی  ناقابلِ متاثر حمایت و تعاون کو جاری رکھے گا۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ترک حکومت کی جانب سے تین ملین سے زائد شامی شہریوں کی مہمان نوازی  کو'بے مثال' قرار دیتے ہوئے   امریکہ کے ان کوششوں کی  قدر کرنے کا   بھی کہا ہے۔

 



متعللقہ خبریں