یورپ کی مرکزی جماعتیں اپنی طاقت کو تیزی سے کھو رہی ہیں، ترک وزیر خارجہ

جرمنی میں عام انتخابات کی مہم میں اندرونی مسائل کے بجائے ترک صدر پر کیچڑ اچھالتے ہوئے ووٹ حاصل کرنی کی کوشش کی جا رہی ہے

801111
یورپ کی مرکزی جماعتیں اپنی طاقت کو تیزی سے کھو رہی ہیں، ترک وزیر خارجہ

وزیر خارجہ  میولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک  کی مرکزی  سیاسی جماعتیں  ایک جیسی   نسل پرست زبان  استعمال  کر رہی ہیں۔

چاوش اولو نے سلووینیا میں منعقدہ  12 ویں بلیڈ سڑیٹیجک  فورم میں شرکت کرتے ہوئے "ایک نئی حقیقت کے لیے  ایک نیا نقطہ نظر" مرکزی   خیال کے حامل   ایک پینل میں شرکاء سے خطاب کیا۔

پینل سےقبل  ترکی کے سلسلہ رکنیت یورپی یونین   سے  متعلق    جرمنی میں بحث  ومباحثہ کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چاوش اولو نے  بتایا کہ جرمنی میں  چانسلر انگیلا مرکل  اور سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کے  وزارت  عظمی ٰ کے امیدوار مارٹن شیلز کے درمیان مناظرے میں ملکی  مسائل سے  کہیں زیادہ صدر رجب طیب ایردوان اور ہنگری کےو زیر اعظم  وکٹر اوربن   کو  زیر ِ بحث لایا گیا۔

 یورپی یونین کے بعض ملکوں میں  عوامیت پسندی  کی تحریک میں  تیزی آنے کا اشارہ  دینے والے چاوش اولو نے   بتایا کہ اس کی وجہ  انتہا پسند پارٹیوں کا طاقت پکڑنا ہے،  جس کا یہ مطلب ہے کہ مرکزی  سیاسی جماعتیں   کمزور پڑتی جارہی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی جماعتیں  نسل پرست پارٹیوں کے  مؤقف کے استعمال سے کھوئے جانے والے ووٹوں کو واپس لینے  کے درپے ہے، لہذا یہ کہنا ممکن  ہے کہ خطے میں  تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں،  جرمنی کے عام انتخابات   اسی ملک  میں ہو رہے ہیں نا کہ  ترکی اور ہنگری میں۔ ان کے لیے بہتر ہو گا کہ یہ اپنے ملکی مسائل پر توجہ دیں۔

یورپی یونین کی رکنیت کے ترکی کے لیے تا حال ایک حکمتِ عملی ہدف ہونے  پر زور دینے والے وزیر   نے اپنے جائزے  پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ترکی کو کسی مذاکراتی عنوان پر  بات چیت چھیڑنے ، فنی معاملات  کو زیر ِ بحث لانے  میں کسی قسم کے مسئلے کا سامنا نہیں ہے، اصل مسئلہ ہمارے سامنے کھڑی کردہ سیاسی رکاوٹیں ہے۔"

 



متعللقہ خبریں