القدس میں حرم الشریف تمام عالمِ اسلام  کے وقار،عزت وناموس اورمقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے:صدر ایردوان

دو ر روزہ سعودی عرب، کویت اور قطر  کے دورے  کے پہلے مرحلے  جدہ روانگی سے قبل استنبول  کے اتاترک ہوائی اڈے  پر بیان دیتے ہوئے صدر ایردوان  نے اسرائیل کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ  میں عبادت پر پابندی لگانے  سے متعلق اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار  کیا ہے

775793
القدس میں حرم الشریف تمام عالمِ اسلام  کے وقار،عزت وناموس اورمقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے:صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان  نے کہا ہے کہ القدس  میں حرم الشریف تمام عالمِ اسلام  کے وقار،  عزت و ناموس   اور مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

دو ر روزہ سعودی عرب، کویت اور قطر  کے دورے  کے پہلے مرحلے  جدہ روانگی سے قبل استنبول  کے اتاترک ہوائی اڈے  پر بیان دیتے ہوئے صدر ایردوان  نے اسرائیل کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ  میں عبادت پر پابندی لگانے  سے متعلق اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار  کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے وقار  کو نقصان پہنچانے  پر عالمِ اسلام کی جانب سے  ردِ عمل ظاہرنہ کرنے  کی توقع نہیں ہے۔

انہوں نے القدس میں  جاری کشیدگی  کو فوری  طور پر ختم کروانے  ترکی ہونے کے ناتے وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔  انہوں نے اسرائیل سے  اسرائیل سے بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران کو طول  دینے سے  کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک   کے علاوہ  دیگر   اہم ممالک اس مسئلے کو حل کرنے   میں مددگار ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حالیہ کچھ عرصے سے ترکی اور جرمنی کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  ترکی کے اندر  جاسوسی کے ذریعے  اشتعال انگیزی کرنے  اور اس کے لیے سفارت کاری کا سہارا لینے  والوں کے خلاف ترکی   تمام ضروری اقدامات اختیار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ   ترکی میں علدیہ کے رو برو پیش  ہوکر  مجرم ثابت ہونے الوں کو اگر جرمنی پنا ہ دے گا تو   اور  وہاں  ان کو  ایوارڈ سے نوازہ جائے اور بولنے کا موقع فراہم کیا جائے  تو پھر جرمنی کے خلاف  ہمارے سوچ میں منفی عنصر شامل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی ترکی میں دہشت گردی میں  ملوث  دہشت گردوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم   فیتو  کے کئی ایک دہشت گرد  جرمنی میں  ہر قسم کی کاروائیوں میں آزادانہ حصہ لے رہے ہیں اور ان کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی کو دہشت گرد تنظیم پی کےکے  سے متعلق چار ہزار پانچ سو فائلز  روانہ کی گئی  لیکن جعمنی  نے اپنے اوپر عائد ہونے والے فرائض ادا نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں دہشت گرد تنظیمیں  اپنا  نام  تبدیل کرتے ہوئے  مختلف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ترکی  ان سب دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے   اور نام تبدیل کرنے سے  کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑے گا دہشت گرد تنظیمیں دہشت گرد تنظیمیں ہی رہیں گی۔

 



متعللقہ خبریں