1٫7 بلین کی مسلم آبادی مگر سلامتی کونسل میں ایک بھی نمائندہ نہیں: ایردوان

صدر رجب طیب ایرودان  نے  ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے  کہ  سلامتی کونسل   کے 5 رکن ممالک کے رحم و کرم  پر دنیا  کو  چھوڑ دینا غلط فیصلہ ہے

502407
1٫7 بلین کی مسلم آبادی مگر سلامتی کونسل میں ایک بھی نمائندہ نہیں: ایردوان

صدر رجب طیب ایرودان  نے  ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے  کہ  سلامتی کونسل   کے 5 رکن ممالک کے رحم و کرم  پر دنیا  کو  چھوڑ دینا غلط فیصلہ ہے ۔

 صدر ایردوان نے   اس بات  کا اظہار دورہ یوگنڈا کے دوران کیا  جہاں انہیں ماکا رےرے  یونیورسٹی کی طرف سے  ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند    دی گئی ۔

 صدر نے  اس تقریب سے خطاب کے دوران  کہا کہ   ترکی  یورپ اور ایشیا کے درمیان  واقع ہونے کے علاوہ افریقہ کا  بھی قریبی ہمسایہ ملک ہے  جس سے  ہمیں اپنے تعلقات  کو مزید  فروغ  ضروری ہے ، ہم افریقی ممالک کے ساتھ  معاشی تعلقات    کے علاوہ    ہر  مشکل  وقت میں     اس خطے کی عوام   کی مدد کو   ہمہ وقت تیار  رہنے  کا بھی عزم رکھتے ہیں۔

 صدر نے کہا کہ ترک  سماجی و فلاحی ادارے یوگنڈا میں   عوام  کی خدمت     کےلیے  موجود رہے ہیں  اور یہ سلسلہ مستقبل میں   بھی جاری رہےگا۔

  اقوام متحدہ  پر تنقید   کرتےہوئے  جناب صدر نے کہا کہ   سلامتی کونسل کے پانچ رکن ممالک کے رحم و کرم  پر دنیا کے فیصلوں کو چھوڑنا  مناسب نہیں ۔ سلامتی کونسل کے پانچ ارکان میں سے اگر ایک  یا دو رکن فیصلے کی مخالفت کردیں تو  کوئی بھی  عالمی  مسئلہ حل ہوئے بغیر بس   کاغذوں کی نذر ہوجا تا ہے ۔  میرا کہنا یہ ہے   کہ دنیا میں اس وقت  مسلمانوں کی تعداد 1٫7 بلین ہے  جن کا کوئی بھی نمائندہ   کونسل میں نہیں ہے اسی طرح  افریقہ کے مسائل  حل کرنے میں  معاونت کے لیے    کوئی بھی  افریقی  ملک  اس کونسل کا رکن نہیں ہے  میرے نزدیک  یہ نا انصافی    ہے ۔

 یوگنڈا ۔ترکی بزنس کونسل  سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ  ہم   صحت،مواصلات  اور تعلیم جیسے شعبوں میں کافی اہم منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں  اور چاہتے ہین کہ یوگنڈا بھی ہمارے ان تجربات سے فائدہ اٹھائے  کیونکہ  ہم   تجارتی ہونے کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی ایک قابل بھروسہ ملک ہیں۔

 



متعللقہ خبریں